Aaj News

مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے، زرمبادلہ پر مسلسل دباؤ ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
اپ ڈیٹ 23 جنوری 2023 04:34pm
<p>تصویر/ فائل</p>

تصویر/ فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔

مرکزی بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے پالیسی ریٹ 17 فیصد کردیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے، زرمبادلہ پر مسلسل دباؤ ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ چھ ماہ کے دوران کارکردگی بہتر رہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بہتری آئے گی، امکان ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 9 ارب ہوجائے گا۔

جمیل احمد نے کہا کہ برآمدات میں کمی ہوئی ہے، حالیہ چند ماہ میں ذرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے ہیں، کچھ غیرملکی ادائیگیاں باقی رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کم کرنے کیلئے شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جی ڈی پی گروتھ 2 فیصد سے کم رہ سکتی ہے، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں بہت سے مسائل ہیں۔

ڈالر کی خرید و فروخت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایکسچینج کمپنیز کے علاوہ جو مارکیٹس ہیں وہ غیر قانونی ہیں، ہم ان مارکیٹس کو نہیں مانتے، اسٹیٹ بینک، انٹربینک ریٹ اور ایکسینج مارکیٹ کے ریٹ ہی قابل قبول ہیں۔

گورنر جمیل احمد نے کہا کہ ڈالرز نہیں آرہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق 23 ارب دالرز کے پرنسپل میں سے 15 ارب دالرز دئیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نو ارب ڈالرز دے چکے اور 6 ارب رول اوور ہوا ہے، ہم نے 8 ارب ڈالرز کے قرضے دینے ہیں، دو ارب کمرشل لونز ہیں، پانچ ماہ میں 3 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں، 7 یا 8 ارب ڈالرز کی ادائیگی کی باتیں درست نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی درآمد سے پہلے اسٹیٹ بینک سے کلیئرنس لینی چاہئے تھی، ایل سیز اور کنٹینرز کا معاملہ بڑا مسئلہ تھا، ہم ایف پی سی سی آئی اور کراچی چیمبرز سے درخواست کی، ہم نے ان سے شپمنٹ کی تفصیل مانگی، کچھ بزنس کمیونٹی ڈیفرڈ پیمنٹ پر مال کلیئر کرانا چاہتے تھے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ہم نے مشاورت کے بعد آج فیصلہ کیا ہے، امپورٹر کے پاس فنڈنگ ہے تو کنٹینرز کلیئر ہوسکتے ہیں، 180 دنوں کی پیمنٹ کا ٹائم لے لیتے ہیں تو بینکوں کو کہا ہے کہ امپورٹ کی کلیرئنس دے دیں۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوا جس کے بعد نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا۔

اقتصادی ماہرین کےمطابق افراط زر کی بلند شرح، ملکی اور عالمی معاشی حالات کے پیش نظر شرح سود میں اضافے کا امکان تھا جو سچ ثابت ہوا۔

اس سے قبل بنیادی شرح سود 16 فیصد تھا۔ پچیس نومبر کو اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ ایک فیصد بڑھا کر 16 فیصد کیا تھا۔

state bank pakistan

bank loan

Comments are closed on this story.

مقبول ترین