Aaj News

جمعرات, مئ 23, 2024  
14 Dhul-Qadah 1445  

سلو پوائزننگ سے بشریٰ بی بی کی جلد اور زبان پر نشانات پڑ گئے، عمران خان

ججز کو سیلیوٹ کرتا ہوں، جنرل فیض ہو یا کوئی اورتحقیقات ہونی چاہیئے، صحافیوں سے گفتگو
اپ ڈیٹ 02 اپريل 2024 08:19pm

پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں زہر دیا گیا، سلو پوائزننگ سے بشریٰ بی بی کی جلد اور زبان پر نشانات پڑ گئے۔

اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت ہوئی، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا سے کہا کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں زہر دینے کی کوشش کی گئی ہے، ان کی جلد اور زبان پر نشانات ہیں، ان کا مکمل میڈیکل چیک اپ کرنے کا حکم دیا جائے، مجھے پتا ہے اس کے پیچھے کون ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر بشریٰ بی بی کو کچھ ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار موجودہ اسٹیبشلمنٹ ہوگی، لوگ بنی گالہ سے اڈیالہ جیل تک سب چیزیں کنٹرول کر رہے ہیں، بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم سے کروانے کا حکم دیا جائے، بشری بی بی کا معائنہ ایک جونیئر ڈاکٹر سے کروایا گیا جس پر ہمیں اعتبار نہیں، بشری بی بی کو زہر دیے جانے کے معاملے پر انکوائری بھی کروائی جائے۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو بشریٰ بی بی کے طبی معائنے سے متعلق تفصیلی درخواست دینے کی ہدایت کردی۔

تمام ججز باہر سے کنٹرول ہو رہے تھے، عمران خان

اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام اباد ہائیکورٹ کے ججز نے جو خط لکھا، یہ سب کو پتہ ہے کہ جب سے رجیم چینج ہوئی یہ بات تب سے چل رہی ہے، ججز پیغام دیتے ہیں کہ وہ بے بس ہیں، پولیس بھی کہتی ہے کہ ہم پر دباؤ ہے جیل کو بھی آئی ایس آئی کنٹرول کر رہی ہے، احتساب عدالت کے سابقہ جج محمد بشیر دباؤ کی وجہ سے پانچ مرتبہ جیل کے اسپتال گئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نکاح کیس سننے والے جج قدرت اللہ نے وکلاء کو بتایا کہ اس وقت تک بیٹے کا ولیمہ نہیں کرسکتا جب تک فیصلہ نہ سناؤں، سائفر کیس میں میرا 342 کا بیان ہورہا تھا جج 10 منٹ کے لیے باہر گئے اور واپس آتے ہی فیصلہ سنا دیا، تمام ججز باہر سے کنٹرول ہو رہے تھے۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ عارف علوی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ مجھے لندن پلان کا علم ہے، چیف الیکشن کمشنر لندن پلان پرعمل درآمد کا مرکزی کردار ہے، نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن نے مل کر لندن پلان پرعمل درآمد کیا۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا مقصد پی ٹی آئی کو ختم کرنا تھا، اقتدار میں بیٹھے لوگ ایجنسیوں کے بغیرایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے، صرف 4 حلقے کھول دیں توحکومت گرجائے گی۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شکر ہے کہ تصدق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا، سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ بنا دیا گیا، ججز کا خط لکھنا سنجیدہ معاملہ ہے اس پرفل کوٹ کو سماعت کرنی چاہیئے تھی، سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ کا بننا کمیشن بننے سے بہتر ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کے مستقبل کی جنگ چل رہی ہے، سابق کمشنر راولپنڈی کواب تک غائب رکھا گیا ہے، وسل بلور کو تحفظ ملتا ہے مگر کمشنر کو غائب کر دیا گی، کمشنر راولپنڈی اور فارم 45 ایک ہی بات کی نشاندہی کررہے ہیں کیوں اس پرتحقیقات نہیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ اور ایس آئی ایف سی جو مرضی کر لیں ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی، ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کر دیا گیا ہے، ججز کو آواز اٹھانے پر سلوٹ کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ وہ ملک کو بچا لیں، ملک میں معیشت سست روی کا شکار ہے ملک تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے ۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں گیا تھا اس لیے ہم خاموش رہے۔

عمران خان سے سوال کیا گیا کہ شوکت عزیز صدیقی نے جنرل فیض پر الزامات لگائے تھے، اس وقت آپ وزیراعظم تھے، جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ جنرل فیض ہو یا کوئی اورتحقیقات ہونی چاہیئے، جنرل فیض کی تقرری میں نے نہیں کی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ لو نے اپنے آپ کو اور امریکی حکومت کو بچانے کے لیے چیزوں کی تردید کی، اسد مجید نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ میں آکر دھمکی کا بتایا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں فسطائیت ہے پرامن احتجاج بھی نہیں کرسکتے، مجھے عمر ایوب سے جان بوجھ کرملنے نہیں دیا جا رہا تاکہ مشاورت نہ ہو سکے، میری بیوی کے ساتھ جو کیا گیا وہ خطرناک ہے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے خلاف تمام گواہان ہارٹ اٹیک کی وجہ سے مارے گئے، چند ماہ میں سب کی موت ہو گئی، مجھے ڈرانے کے لیے بشری بی بی کو زہر دیا گیا، بشری بی بی کو زہر دیا جائے گا تو کیا میں خاموش بیٹھوں گا۔

میرے کھانے میں ہارپک ملایا گیا، بشریٰ بی بی

بشریٰ بی بی نے عدالت میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے امریکی ایجنٹ ہونے سے متعلق پارٹی میں باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، شب معراج کے روز میرے کھانے میں ’’ہارپک‘‘ کے تین قطرے ملائے گئے، تحقیق سے پتا چلا کہ ہارپک سے ایک ماہ بعد طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے، مجھے انکھوں میں سوجن ہو جاتی ہے سینے اور معدے میں تکلیف ہوتی ہے، کھانا اور پانی بھی کڑوا لگتا ہے، پہلے شہد میں بھی کچھ ملایا گیا تھا اب کھانے میں بھی ہارپک ملایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جیل میں بھی کسی نے بتایا تھا کہ کھانے میں ہارپک ڈالا گیا اس کا نام نہیں بتاؤں گی ،مجھے بنی گالہ میں باعزت طریقے سے رکھا گیا ہے، پہلے کھڑکیاں بند رکھی جاتی تھی اب کچھ دیر کے لیے کھول دی جاتی ہیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ پنجابی کہاوت ہے کہ بندہ بندے نو کھا جاندااے، جج اور اداروں کو بندے کھاتے دیکھا تو اس کہاوت کی سمجھ آئی ہے۔

بشریٰ بی بی کو زہر دیا جارہا ہے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے معاملے پر فل کورٹ بنائیں کیونکہ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہونی چاہیئے۔

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کو زہر دیا جارہا ہے، بشریٰ بی بی کا ہر حال میں خیال رکھا جائے، بشریٰ بی بی کو آئسولیشن میں رکھا جارہا ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ججز کے خط اور موجودہ صورتحال پر بات ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے سوموٹو ایکشن پر خوشی کا اظہار کیا ہے، چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 9 مئی کے خلاف ہماری پٹیشن کو فوری سنا جائے، بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کی درخواست بھی سپریم کورٹ میں موجود ہے اس پر بھی فیصلہ کیا جائے۔ فارم 45 کو کیسے فارم 47 میں تبدیل کیا گیا تمام میٹریل سپریم کورٹ میں جمع ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ بشریٰ بی بی کو زہر دیا جارہا ہے، ہم محاذ آرائی نہیں چاہتے، سب جانتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کو کس نے بنی گالہ میں رکھا، بشریٰ بی بی کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جن لوگوں نے ان کو سب جیل میں رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو نے قبول کیا توشہ خانہ کیس کی کوئی بنیاد نہیں، القادر یونیوسٹی کا کیس بھی چل رہا ہے، ٹرسٹی کبھی مالک نہیں ہوتے۔ 190 ملین پاؤنڈ میں گواہان نے تسلیم کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے کوئی فائدہ نہیں لیا، توشہ خانہ میں بھی تسلیم کر لیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کا کیس بے بنیاد ہے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے الیکشن کو روکا گیا، بتایا جائے کہ مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نے ہماری بات کیوں تسلیم نہیں کی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آرٹیکل 61 کے تحت اس کو دیکھا جائے کہ جیتی ہوئی نشستوں سے زیادہ کیسے دی گئی ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ہماری جو خواتین جیل میں ہیں ان کی ضمانتیں ہوئی تو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔ خواتین کے بنیادی حقوق کو سلب کیا جارہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں ان کو دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے۔ بشریٰ بی بی کی سیکیورٹی کے حوالے سے ہم پہلے بھی آگاہ کرچکے ہیں، سلو پوائزنگ کے حوالے سے بشریٰ بی بی نے خود بھی میڈیا کو آگاہ کرچکی ہیں۔

rawalpindi

imran khan

bushra bibi

Adiyala Jail

IMRAN KHAN Adiyala Jail

Adyala Jail

Adiayala Jail