امریکی مداخلت پورے خطے میں افراتفری کا باعث بنے گی: ایران کا ٹرمپ کے بیان پر رد عمل

کسی بھی امریکی مداخلت سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے: ایرانی سینئر عہدیدار
شائع 02 جنوری 2026 05:57pm

ایران میں جاری احتجاج پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کارروائی کی دھمکی کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔

جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران میں پُرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آئے گا۔

ٹرمپ کے بیان پر ایران کے سینئر عہدیدار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی مداخلت پورے خطے میں افراتفری کا باعث بنے گی اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

علی لاریجانی نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ایرانی حکومت نے پرامن مظاہرین پر گولی چلائی تو امریکا ان کی مدد کو آئے گا، امریکا تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ادھر ایران میں اتوار سے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہروں کا آغاز خراب معاشی صورت حال، قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، مہنگائی اور کمزور معاشی نمو کے خلاف عوامی غصے کے نتیجے میں ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں افراطِ زر کی شرح 42.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

احتجاج کا آغاز تہران سے ہوا، جہاں دکاندار سڑکوں پر نکل آئے، بعد ازاں کم از کم 10 جامعات کے طلبہ بھی مظاہروں میں شامل ہوگئے۔ متعدد شہروں میں بازار بند رہے جب کہ سرد موسم کے باعث سرکاری تعطیل کے اعلان سے ملک کے کئی حصوں میں معمولاتِ زندگی معطل ہوگئے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران احتجاج مختلف صوبوں تک پھیل گیا، جہاں بعض مقامات پر مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کرگئے۔ نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مسلح عناصر نے صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے متعدد افراد سے اسلحہ بھی برآمد کیا۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں سویلین حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں اور خطے میں حالیہ کشیدگی ملکی معیشت پر دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

Donald Trump

Iran

America

Iran Protest

threatens

President Donald Trump

intervene