پاکستانی مسافروں کو یو اے ای میں امیگریشن کارروائی سے نجات مل گئی

نئے نظام کے تحت مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس پاکستان میں ہی مکمل ہوگی
شائع 14 جنوری 2026 09:09am

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مسافروں کے لیے سفر کو آسان بنانے کے مقصد سے پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت پہلے مرحلے میں پائلٹ منصوبے کا آغاز کراچی سے کیا جائے گا، جس کے بعد اسے مرحلہ وار دیگر شہروں تک توسیع دی جائے گی۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس پاکستان میں ہی مکمل کی جائے گی، جس سے متحدہ عرب امارات پہنچنے پر امیگریشن کی طویل کارروائی سے نجات ملے گی۔

اس سلسلے میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے متحدہ عرب امارات کے ڈی جی کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں یو اے ای کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک یو اے ای تعلقات، باہمی تعاون اور مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کو مزید سہل اور تیز بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پری امیگریشن کلیئرنس کے نئے نظام کے تحت کلیئرنس کا تمام عمل پاکستان میں ہی مکمل ہوگا، جس سے مسافروں کو یو اے ای پہنچنے پر امیگریشن کی قطاروں اور تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں اس منصوبے کا پائلٹ اجرا کراچی سے کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اس دائرہ کار کو بتدریج دیگر شہروں تک بڑھایا جائے گا۔

یو اے ای کے وفد نے منصوبے کے حوالے سے مکمل تعاون کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس اقدام سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ دوطرفہ تعلقات بھی مزید مضبوط ہوں گے۔

پاکستان

UAE

travelers

mohsin naqvi

Immigration

DG Customs