ٹرمپ کا گرین لینڈ پر کنٹرول کا اعلان، پیچھے ہٹنے سے انکار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس اعلان سے نیٹو اتحاد میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے جب کہ یورپی یونین نے امریکا کے خلاف تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے ارادے کو دوٹوک انداز میں دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں ”واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں“۔ انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ امریکا اپنے مقصد کے لیے طاقت کا استعمال کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بیان نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے گفتگو کے بعد دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی اورعالمی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور اس پر امریکا کا مؤقف حتمی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں وہ گرین لینڈ میں امریکی پرچم تھامے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ ایک اور تصویر میں نقشے کے ذریعے کینیڈا اور گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے بعض لیک شدہ پیغامات بھی جاری کیے، جن میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا وہ پیغام شامل تھا جس میں انہوں نے گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ سے سوال کیا تھا۔
ٹرمپ کے اس مؤقف نے نیٹو اتحاد کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خودمختارعلاقہ ہے اور ڈنمارک نیٹو کا رکن ملک ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنازع اس اتحاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو کئی دہائیوں سے مغربی دفاعی حکمتِ عملی کی بنیاد رہا ہے۔
ادھر یورپی یونین نے امریکا کے خلاف ممکنہ جوابی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ ان میں 93 ارب یورو مالیت کی امریکی درآمدات پر ٹیرف عائد کرنے کا آپشن اور اینٹی کوئرسن انسٹرومنٹ (ACI) کا استعمال شامل ہے، جس کے تحت امریکا کی سرمایہ کاری، بینکاری اور خدمات کے شعبے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ڈنمارک کی وزیرِ معیشت اسٹیفنی لوز نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ڈنمارک تک محدود نہیں بلکہ پورے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کا سوال بن چکا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال میں کسی بھی آپشن کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تاہم کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے گرین لینڈ کے معاملے پر پھیلنے والی تشویش کو ”ہسٹیریا“ قرار دیا۔ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکا اور یورپ کے درمیان ایسا حل نکل آئے گا جو دونوں کی سلامتی کو یقینی بنائے گا اور قیادت اس معاملے کو مزید نہیں بڑھائے گی۔
دوسری جانب روس نے بھی اس تنازعے میں بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا ”قدرتی حصہ“ نہیں، جسے یورپی دارالحکومتوں میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق روس اس اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے یورپی اتحادیوں پر نئے ٹیرف کی دھمکیوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی منفی ردعمل دیکھا گیا۔ یورپی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں کمی آئی جب کہ امریکی اسٹاک فیوچرز اور ڈالر بھی دباؤ کا شکار رہے۔
ادھر گرین لینڈ کے مقامی رہنماؤں اور عوام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ امریکی کنٹرول کی حمایت نہیں کرتے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید بڑھا تو نہ صرف امریکا اور یورپ کے تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔















