خاتون کی رضا مندی کے بغیر طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، خاتون کو 12 لاکھ روپے بقایا حق مہر ادا کرنے کا حکم
شائع 25 جنوری 2026 04:43pm

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ خاتون کی واضح رضامندی کے بغیر طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت بھی ازخود طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کرسکتی، دوسری شادی مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے نکاح کو ظلم کی بنیاد پر طلاق کے ذریعے تحلیل کردیا ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا جب کہ سپریم کورٹ نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جو جسٹس مسرت ہلالی نے تحریر کیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار نائلہ جاوید نے شادی کے خاتمے کے لیے ظلم اور قانونی بنیادوں پر درخواست دائر کی تھی تاہم فیملی کورٹ نے ظلم کے الزامات پر فیصلہ دینے کے بجائے نکاح کو خلع کی بنیاد پر تحلیل کیا تھا اور خاتون کو بقایا حق مہر چھوڑنے کا حکم دیا، جو کہ قانونی طور پر درست نہیں۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے خلع کی استدعا نہیں کی تھی، اس لیے اس کے دعوے کو خلع میں تبدیل کرنا غلط قانونی تشخیص ہے۔ عدالت نے فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے نکاح کو ظلم کی بنیاد پر طلاق کے ذریعے تحلیل کرتے ہوئے خاتون کو 12 لاکھ روپے بقایا حق مہر ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ دورانِ مقدمہ شوہر نے دوسری شادی کی، جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی ہے۔ شوہر نے اعتراف کیا کہ اس نے دوسری شادی کے لیے نہ تو بیوی کی اجازت لی اور نہ ہی آربیٹریشن کونسل سے منظوری حاصل کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ بغیر اجازت دوسری شادی ڈی ایم ایم اے کے تحت نکاح تحلیل کرنے کی قانونی بنیاد بنتی ہے، شوہر نے بیوی کو نان نفقہ فراہم نہیں کیا اور جرح کے دوران خاتون کی کردار کشی کی گئی۔ یہ تمام عوامل قانونی طور پر ظلم کے زمرے میں آتے ہیں اور ایسی صورت حال میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار نافرمانی نہیں ہے۔