غزہ بورڈ آف پیس کا اجلاس: وزیراعظم واشنگٹن پہنچ گئے
عالمی امن اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں آج واشنگٹن میں غزہ بورڈ آف پیس کا اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت مختلف عالمی رہنما شرکت کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو اور خطے میں پائیدار امن کے قیام پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ بورڈ آف پیس کا اجلاس آج ہو رہا ہے، جس میں غزہ کی تعمیرِ نو، انسانی امداد اور امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات زیرِ غور آئیں گے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف امریکی صدر کی دعوت پر دورۂ امریکا کے سلسلے میں واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزیرِاعظم کے ہمراہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی وفد میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم کی واشنگٹن میں اعلیٰ امریکی حکام اور دیگر عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ عالمی امن کے لیے پاکستان کے فعال سفارتی کردار اور حالیہ سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سیزفائر کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیزفائر کا احترام اور مستقل امن کے قیام کے لیے باہمی اعتماد پر مبنی سفارت کاری ناگزیر ہے۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اور انسانی امداد وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ صورتحال کے پائیدار حل کے لیے فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار لازم و ملزوم ہے۔
ادھر کراچی میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پاکستان مشکل مراحل سے گزر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود غزہ میں امن کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان فلسطین میں امن کا خواہاں ہے۔
گورنر سندھ نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشتگردی کے جال بچھا رکھے تھے اور پاکستان کو آئی ایم ایف میں جکڑنے کی پالیسی بھی اسی کا حصہ تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے غزہ امن معاہدے پر کسی دباؤ میں نہیں بلکہ مظلوم فلسطینیوں کو بچانے کے لیے دستخط کیے ہیں۔














