امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے ہفتے کی صبح جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت میں موجود امریکی بیسز پر میزائل داغے۔
فوری طور پر ایرانی میزائل حملے سے ہونے والے نقصانات سامنے نہیں آسکے تاہم بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے قطر میں العُديد ایئربیس، کویت میں السالم، یو اے ای میں الظُفرہ ایئربیس اور بحرین میں واقع امریکی ایئربیس کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے اس کا جائز ہدف ہوں گے۔
امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا فوجی نیٹ ورک دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے تقریباً 80 ممالک میں 750 چھوٹے اور بڑے فوجی اڈے موجود ہیں۔ جاپان میں سب سے زائد 120 ملٹری بیسز، جرمنی میں 119 اور جنوبی کوریا میں امریکا کے 73 فوجی اڈے موجود ہیں۔ اِن میں سے بیشتر دوسری جنگِ عظیم کے دوران قائم کیے گئے تھے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کئی دہائیوں سے موجود ہے جنہیں امریکہ مختلف ممالک میں قائم فوجی اڈوں سے رابطے، فضائی، بحری اور زمینی آپریشنز کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
قطر
قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب واقع ’العدید ایئر بیس‘ امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ میں موجود سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ سینٹ کام کا مرکزی ہیڈکوارٹر فلوریڈا (امریکہ) میں ہے جبکہ ’العدید ایئر بیس‘ اس کا علاقائی فارورڈ ہیڈکوارٹر کہلاتا ہے۔
امریکہ اس ملٹری بیس کے ذریعے مصر سے لے کر قازقستان تک پھیلے اس وسیع خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں سے پورے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی کارروائیوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی ملٹری بیس عراق، شام اور افغانستان میں جنگی مشنز کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
کویت
کویت میں کئی بڑے امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں ’کیمپ عریفجان‘ بھی شامل ہے جو اس خطے میں امریکہ کا دوسرا بڑا فوجی اڈہ ہے۔ یہ ’یو ایس آرمی سینٹرل‘ کا فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے۔
اس اڈے کی ذمہ داریوں میں خطے میں موجود تمام امریکی زمینی افواج کی لاجسٹک اور انتظامی مدد کرنا شامل ہے۔
کویت میں دوسرا امریکی اڈہ ’علی السالم ایئر بیس‘ ہے جو عراقی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہاں کے دشوار گزار ماحول کے باعث اس اڈے کو ’دی راک‘ بھی کہا جاتا ہے۔
’کیمپ بیوہرنگ‘ بھی 2003 کی عراق جنگ کے دوران قائم کیا گیا تھا اور عراق و شام میں تعیناتی کے لیے امریکی فوج کا اہم مرکز ہے۔ اس کے علاوہ بھی کویت میں متعدد امریکی اڈے موجود ہیں۔
بحرین
بحرین میں امریکی بحریہ کے ’ففتھ فلیٹ‘ کا ہیڈکوارٹر ’این ایس اے بحرین‘ موجود ہے۔ جس کی ذمہ داری خلیج، بحیرۂ احمر، بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے بعض حصوں کی نگرانی ہے۔ یہ اڈہ امریکی بحری طاقت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات
ابوظہبی کے جنوب میں واقع ’الظفرہ ایئر بیس‘ امریکی اور اماراتی فضائیہ کا مشترکہ اڈہ ہے، جو داعش کے خلاف کارروائیوں اور خطے میں نگرانی مشنز میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
دبئی کی جبلِ علی بندرگاہ اگرچہ باضابطہ فوجی اڈہ نہیں مگر یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کی سب سے بڑی ’پورٹ آف کال‘ ہے جہاں اکثر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں۔
عراق
عراق کے مغربی صوبے انبار میں واقع ’عین الاسد ایئر بیس‘ میں بھی امریکی فوجی موجودگی برقرار ہے جو عراقی سیکیورٹی فورسز اور نیٹو مشنز کی معاونت کرتی ہے۔
2020 میں ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں اِسی اڈے پر میزائل حملے کیے تھے۔
شمالی عراق کے کردستان ریجن میں واقع ’اِربیل ایئر بیس‘ بھی امریکی اور اتحادی افواج کا اہم مرکز ہے، جسے امریکی فوج کی تربیت کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور لاجسٹک رابطہ کاری کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب
سعودی دارالحکومت ریاض سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب میں ’پرنس سلطان ایئر بیس‘ واقع ہے، جہاں امریکہ کے ’پیٹریاٹ میزائل‘ اور ’ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس‘ (تھاڈ) نظام تعینات ہیں۔
اردن
اردن کے دارالحکومت عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شہر ازرق میں ’موفق السلطی ایئر بیس‘ پر امریکی فضائیہ کا ’ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ‘ تعینات ہے جو بحیرہ روم کے مشرقی ساحلی خطے میں مشنز انجام دیتا ہے۔
ترکیہ
ترکیہ نیٹو کا اہم رکن ہونے کی وجہ سے امریکی فوج کی یورپی کمانڈ (ای یو کام) میں آتا ہے۔ ترکیہ میں امریکہ کے کئی اہم مراکز ہیں۔ جس میں سب سے مشہور ’اِنسرلک ایئر بیس‘ ہے جو جنوبی ترکیہ کے شہر ادانہ میں واقع ہے۔
یہ خطے میں امریکہ کا سب سے اہم اسٹریٹجک اڈہ ہے جو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہے اور یہاں سے داعش کے خلاف بھی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔
مشرقی ترکیہ کے شہر ملاطیہ میں واقع ’کورجک ریڈار اسٹیشن‘ بھی امریکہ کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
یہ اسٹیشن انتہائی جدید اینٹی بیلسٹک میزائل ریڈار سسٹم سے لیس ہے۔ جس کا بنیادی مقصد ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کی قبل از وقت اطلاع دینا اور نیٹو کے میزائل دفاعی نظام کو متحرک کرنا ہے۔ ایران اکثر اس اڈے کی موجودگی پر احتجاج کرتا رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کا موازنہ کرنے والے ادارے ’گلوبل فائر پاور‘ کی 2025 کی مڈل ایسٹ رینکنگ کے مطابق ایران مشرق وسطیٰ میں تیسری بڑی فوجی قوت ہے اور دنیا میں عسکری لحاظ سے 16 ویں بڑی طاقت ہے، جس کی آبادی 88 ملین سے زیادہ ہے اور فعال فوجی عملے کی تعداد 6 لاکھ 10 ہزار ہے۔
ایران کے پاس 551 طیارے ہیں جس میں سے 113 لڑاکا طیارے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس 1713 ٹینک اور 107 بحری جہاز بھی موجود ہیں۔
امریکی دفاعی ادارے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹدیز (سی ایس آئی ایس) کے مطابق ایران کے قریبی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کئی امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں، جو کویت، عراق، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے ماضی میں دیے گئے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی تنصیبات اب ایران کے نشانے پر آگئی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کشیدہ ہوگئی ہے۔ انڈونیشیا نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔
انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق انڈونیشیا تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام انتہائی ضروری ہے اور اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
انڈونیشیا نے ایران اور امریکا کو ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اگر دونوں فریقین رضامند ہوں تو انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو تہران جانے کو تیار ہیں۔
انڈونیشیا کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا ایران کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً سپریم لیڈر، کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے یا نہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ حملے ملک کے مختلف حصوں سمیت دارالحکومت تہران میں بھی کیے گئے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق چند میزائل ایسے علاقوں میں گرے جو صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کے قریب واقع ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا رخ ان مقامات کی طرف تھا جو سپریم لیڈر کے دفاتر کے قریب ہیں۔ فوری طور پر نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
86 سالہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ انہوں نے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد یہ منصب سنبھالا۔ خمینی نے 1979 کے اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی جس کے نتیجے میں شاہِ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔
سپریم لیڈر کے طور پر خامنہ ای ایران میں سب سے بااختیار شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں ریاستی امور، مسلح افواج، عدلیہ اور اہم پالیسی فیصلوں پر حتمی اختیار حاصل ہے۔ وہ فوج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں اور کسی بھی بڑے حکومتی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ایران کے سیاسی نظام میں صدر منتخب ہوتا ہے، لیکن سپریم لیڈر کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو انہیں ملک کا اصل طاقتور ترین فرد بناتے ہیں۔
1939 میں مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے کم عمری میں دینی تعلیم حاصل کی اور جلد ہی مذہبی حلقوں میں پہچان بنا لی۔ شاہِ ایران کے دور میں وہ حکومت کے ناقدین میں شامل رہے، متعدد بار گرفتار ہوئے اور جیل بھی کاٹی۔
1979 کے انقلاب کے بعد ان کا سیاسی کردار مضبوط ہوا۔ 1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1989 میں سپریم لیڈر مقرر ہوئے۔
اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ سادہ طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں اور تہران میں ایک کمپاؤنڈ میں قیام کرتے ہیں۔ انہیں شاعری اور باغبانی کا شوق ہے۔
1980 کی دہائی میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے ان کا دایاں بازو متاثر ہے۔ ان کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ سے ان کے چھ بچے ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد عموماً عوامی منظرنامے سے دور رہتے ہیں، تاہم ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بعض اوقات اندرونی سیاسی حلقوں میں لیا جاتا ہے۔
اپنے دورِ قیادت میں خامنہ ای نے مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سامنا کیا ہے۔ ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں اور ملک کے اندر مختلف مواقع پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ خامنہ ای امریکہ کو ایران کا سب سے بڑا دشمن قرار دے چکے ہیں جبکہ اسرائیل کے خلاف بھی سخت موقف رکھتے ہیں۔ ان کی طاقت کا اہم ذریعہ ایران کے دو بڑے سیکیورٹی اداروں، اسلامی انقلابی گارڈ کور اور بسیج فورس، کی وفاداری سمجھی جاتی ہے۔ یہ ادارے ملکی سلامتی اور داخلی نظم و ضبط میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
گزشتہ مہینوں میں اسرائیلی اور امریکی رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آئے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ خامنہ ای مزید موجود نہیں رہ سکتے، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اشارہ دیا تھا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانا تنازع کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مختلف مواقع پر ایران کی قیادت کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کو براہ راست نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے اور دنیا بھر کی نظریں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر جمی ہوئی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد غیرمعمولی صورتحال کے پیش نظر مختلف ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔
ایران نے اسرائیل کے خلاف ’فتح خیبر‘ آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانا بنانا شروع کیا گیا جس کے بعد مختلف ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کردیں۔
فضائی حدود بند کرنے ممالک میں عراق، شام، عمان، کویت، بحرین، اردن، اسرائیل شامل ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے مشرق وسطیٰ جانے والی اپنی تمام پروازیں معطل کردی ہیں۔ پاکستان ائیرٹریفک کنٹرولرز کو ملکی حدود کی کڑی نگرانی کی ہدایت کردی گئی ہے۔
ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث ترکیہ نے بھی اپنی تمام پروازیں معطل کردیں ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے تل ابیب جانے والی اپنی تمام فلائٹس روک دی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق روس کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ روسی فضائی کمپنیوں نے ایران اور اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے آج صبح ایران کے دارالحکومت تہران میں فضائی حملہ کیا جس کے بعد ہنگامی سائرن بجا دیے گئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا ہے۔ حملے میں امریکی فضائیہ نے حصہ لیا۔ حملے کے بعد تہران میں شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی تھیں۔
ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل نے ایران کے متعدد شہروں پر بمباری کی، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں ان تمام فوجی اڈوں پر میزائل داغے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ ایران نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ پورے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق، امریکا خطے میں کم از کم 19 مقامات پر مستقل اور عارضی فوجی اڈوں کا ایک وسیع نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ ان میں سے آٹھ مستقل اڈے بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی پہلی تعیناتی جولائی 1958 میں ہوئی تھی جب لبنان کے بحران کے دوران بیروت میں لڑاکا دستے بھیجے گئے تھے۔
مشرق وسطیٰ میں ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں، جو بڑے مستقل اڈوں اور چھوٹے مقامات پر تعینات ہیں۔ سب سے زیادہ امریکی فوجی قطر، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ہیں۔
خطے کے اہم امریکی فوجی اڈے
العدید ایئر بیس (قطر): 1996 میں قائم ہونے والا یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا فضائی اڈہ ہے۔ 24 ہیکٹر پر محیط اس بیس پر تقریباً 100 طیارے اور ڈرونز موجود ہیں۔ یہاں 10 ہزار فوجی تعینات ہیں اور یہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (بحرین): یہ امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا گھر ہے جہاں تقریباً نو ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ بحرینی فوج نے تصدیق کی ہے کہ 28 فروری کو اس ایئر بیس پر حملہ کیا گیا ہے۔
کیمپ عارفجان (کویت): کویت سٹی سے 55 کلومیٹر دور یہ بیس 1999 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے لاجسٹکس اور سپلائی کا بنیادی مرکز ہے۔
الظفرہ ایئر بیس (متحدہ عرب امارات): یہ ایک اسٹریٹجک بیس ہے جو جاسوسی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور فضائی آپریشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں جدید ترین F-22 ریپٹر اسٹیلتھ فائٹرز اور نگرانی کرنے والے طیارے (AWACS) موجود ہیں۔
اربل ایئر بیس (عراق): یہ بیس شمالی عراق اور شام میں فضائی آپریشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں امریکی فوجی کرد اور عراقی افواج کو مشاورت فراہم کرتے ہیں۔
روس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایران پر حملے امریکی حملے بعد سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اپنا اصل رنگ دکھا دیا ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف، جو صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو فوجی کارروائی کی تیاری کے لیے بطور پردہ استعمال کیا۔
دمتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں کہا کہ ’امن کا دعویٰ کرنے والوں نے ایک بار پھر اپنے اصل رنگ دکھا دیے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات دراصل ایک ’کور آپریشن‘ تھے اور کسی کو بھی اس پر شبہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق حقیقت میں کسی فریق کی سنجیدہ معاہدے کی نیت نہیں تھی۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واشنگٹن کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی پالیسیاں خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے ہیں۔
روسی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماسکو پہلے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے اور ایران کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ میزائل حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم وہ اس وقت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی محفوظ رہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک ایرانی دارالحکومت میں وزارت انٹیلی جنس، وزارت دفاع، ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم اور پارچین ملٹری کمپلیکس کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں 30 اہداف پر تقریباً 50 میزائل داغے گئے۔ دوسری جانب ایرانی مقامی میڈیا کے مطابق تہران کے علاوہ کرمانشاہ، لورستان، تبریز، اصفہان اور کرج میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جون 2025 میں کئے گئے امریکی حملوں کے بعد سے روپوش تھے اور اس دوران شاذ و نادر ہی منظرِ عام پر آئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بارہا اس بات کا شارہ دیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ہفتے کے روز تہران پر ہونے والے حملے اسی کوشش میں کیے گئے، تاہم، ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر ان حملوں میں محفوظ رہے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے آیت اللہ خامنہ ای کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
جنگ کے حالات میں یا کسی بھی حملے کے پیشِ نظر ایران کی اعلیٰ قیادت بشمول سپریم لیڈر کو مختلف نامعلوم مقامات پر واقع زیرِ زمین بنکرز میں منتقل کردیا جاتا ہے، جہاں سے وہ عسکری امور کی نگرانی کرتے ہیں اور احکامات جاری کرتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے، ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر میزائل داغے گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق قطر میں قائم العبيد امریکی اڈہ زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا اور امریکی اڈے کے قریب ایمرجنسی سائرن بجنا شروع ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق قطری حکام نے شہریوں کو فوجی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ قطری حکومت نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے موبائل فون الرٹ جاری کر دیے ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ قطری میزائل دفاعی نظام نے ایرانی میزائل حملہ ناکام بنا دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات
الجریرہ کی رپورٹ کے مطابق بحرین نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی اور دبئی میں بھی زوردار دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں کو روک لیا گیا، تاہم اس واقعے کے نتیجے میں دارالحکومت ابو ظہبی میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی شہر ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
کویت میں بھی زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں سائرن بجنا شروع ہوگئے ہیں۔
ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کا دعویٰ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکا کے تمام فوجی اہداف کو ”ایرانی میزائلوں کی بھرپور ضربوں“ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا، ”یہ آپریشن دشمن کی فیصلہ کن شکست تک بلا تعطل جاری رہے گا“۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پورے خطے میں موجود تمام امریکی اثاثوں کو ایرانی فوج کے لیے جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق کویتی افواج نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا ہے اور مختلف علاقوں میں جنگی سائرن بجائے جارہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی فارس نے قطر میں العبيد، کویت میں ال سالم، یو اے ای میں ظفرہ ایئربیس اور بحرین میں پانچویں ایئربیس کو ایران کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ آنے والے حالات کے لیے تیار رہے، اور ایران کا ردعمل عوامی ہوگا جس میں کوئی سرخ لکیر نہیں ہوگی۔
عہدیدار نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے اور مفادات اب جائز ہدف بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جارحیت کے بعد کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی اور ہر امکان موجود ہے، حتیٰ کہ ایسے منظرنامے بھی زیر غور آ سکتے ہیں جن پر پہلے کبھی غور نہیں کیا گیا تھا۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایسی جارحیت اور جنگ کا آغاز کیا ہے جس کے اثرات وسیع اور طویل المدتی ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ امریکی۔اسرائیلی کارروائی پر ایران کو حیرت نہیں ہوئی اور اس کا ردعمل پیچیدہ ہوگا، جس کی کوئی وقت کی حد مقرر نہیں ہے۔
🔴 LIVE: US-Israel Strike | Major Action Against Iran | Security Alert - Aaj Pakistan News
ایران پر حملے کے بعد تہران نے بھی جواب میں میزال داغ دیے ہیں، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں دھماکے سنے گئے۔ ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائل آپریشن کو ’فتح خیبر‘ کا نام دیا ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر 30 بیلسٹک میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا ہے، اسرائیلی شہر حیفہ میں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔
ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد اس نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ”اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف قابض اور مجرم دشمن کی جارحیت کے جواب میں، مقبوضہ علاقوں کی طرف ایران کے وسیع میزائل اور ڈرون حملوں کی پہلی لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔“
ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے کہا ہے کہمشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکا کے تمام فوجی اہداف کو ”ایرانی میزائلوں کی بھرپور ضربوں“ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا، ”یہ آپریشن دشمن کی فیصلہ کن شکست تک بلا تعطل جاری رہے گا“۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پورے خطے میں موجود تمام امریکی اثاثوں کو ایرانی فوج کے لیے جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔
ایرانی حملے کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی ہوتے ہی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام فوری طور پر ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں۔ فوج کے مطابق اسرائیلی فضائیہ خطرات کو روکنے اور جہاں ضرورت ہو وہاں کارروائی کرنے میں مصروف ہے تاکہ ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
فوج نے واضح کیا کہ دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا، اس لیے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پناہ گاہوں کے قریب رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر ہفتے کے روز ’پیشگی حملہ‘ کیا جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور مختلف علاقوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم، وہ اس دوران تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی حملے میں محفوظ رہے۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق تہران کے یونیورسٹی روڈ پر میزائل گرے جبکہ جمہوری ایریا میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تہران میں مہرآباد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق تہران میں تین مقامات پر میزائل گرے۔ جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں 30 اہداف پر 50 میزائل داغے گئے۔ ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق کرمانشاہ، لورستان، تبریز، اصفہان اور کرج کے شہروں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملیں۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
الجزیرہ کے مطابق، اب تک ایرانی دارالحکومت پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں وزارتِ انٹیلی جنس، وزارتِ دفاع، ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم اور پارچین ملٹری کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم انہوں نے حملے کی وجوہات یا اہداف کی تفصیل فراہم نہیں کی تھی۔
اسرائیلی چینل 12 کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل اور امریکا کا مشترکہ حملہ تھا۔
ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی واشنگٹن کے ساتھ مل کر مہینوں پہلے کی گئی تھی، اور حملے کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں قبل ہو چکا تھا۔
ایک امریکی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ان مشترکہ فضائی حملوں کا مقصد ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے (انٹیلی جنس اور دفاعی نظام) کو مفلوج کرنا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دنیا جان لے یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک پر جاری اپنے پیغام میں لکھا: ”ہم نے تمہیں خبردار کیا تھا! اب تم نے اس راہ کا آغاز کر دیا ہے جس کا انجام اب تمہارے اختیار میں نہیں رہا۔“
اسرائیل نے اپنی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے بعد ہفتے کے روز ان کی فضائی حدود شہری پروازوں بند کردی گئی ہے۔
عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں، قطر میں بھی امریکی سفارت خانے کے عملے کو پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
حملے کے فوراً بعد ایران میں موجود پاکستانیوں کے لیے سفری ایڈوائرزی جاری کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران میں موجود پاکستانی غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
اس دوران کئی ممالک نےبھی اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ہی ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ ایسے مواد کی تیاری کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایران پر امریکی حملے کے امکان کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا تھا۔
واضح رہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران پر یہ دوسرا امریکی حملہ ہے۔ آخری بار امریکا نے جون 2025 میں ایرانی سرزمین کو اس وقت نشانہ بنایا تھا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگی طیاروں کو ایران کے اندر تین ایٹمی تنصیبات پر بڑے بم گرانے کا حکم دیا تھا۔
جوابی کارروائی میں ایران نے قطر میں واقع مشرق وسطیٰ میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی تنصیب العدید ایئر بیس پر تقریباً ایک درجن کم اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے تھے۔
اس کے فوراً بعد امریکی صدر نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اسرائیل کو ایران پر مزید بمباری سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی۔
ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کردیا گیا، ایران نے آپریشن کا نام فتح خیبر رکھا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغ دیے گئے ہیں، اسرائیلی ایئرفورس میزائل کو گرانے کی کوشش کررہی ہے،ایرانی میزائلوں کو روکنے کیلئے دفاعی نظام فعال کردیا ہے، نیویارک ٹائمز کے مطابق شمالی اسرائیل اور حیفہ شہرمیں مسلسل سائرن بج رہے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے ملک بھر میں وارننگ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر شیلٹرز یا محفوظ مقامات پر چلے جائیں اور اگلے احکامات تک وہیں قیام کریں۔ ہنگامی سائرن بجائے گئے اور شہری دفاع کے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک ہے اور حملے کو ناکام بنانے کی کوشش جاری ہے۔ حکام کے مطابق فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، تاہم صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اس حملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نےایران کےخلاف امریکا اسرائیل مشترکہ کارروائی کا اعلان کردیا ہے،کہا امریکا اوراسرائیل نے ایران سے لاحق خطرات ختم کرنے کیلئے آپریشن شروع کردیا،ایران کو جوہری طاقت حاصل کرنے نہیں دیا جائے گا،یہ آپریشن ایرانی عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا موقع دے گا۔
ایران نے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سخت ردعمل دینے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اب حالات حملہ کرنے والوں کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا، لیکن اب آپ نے ایسا راستہ اختیار کر لیا ہے جس کا انجام آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران میں اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے اور حکام جوابی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایک ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی ’ رائٹرز‘ کو بتایا کہ ایران بھرپور اور کچل دینے والا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جوابی حملے انتہائی سخت ہوں گے اور حملہ آوروں کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور ممکنہ اہداف کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایران پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے حملوں کے بعد تہران، ایران میں ایرانی پرچم لہرا رہا ہے۔
ایران
ایران سے داغے گئے میزائلوں کی اطلاع کے بعد حیفا میں اسرائیلی شہری زیرِ زمین پناہ گاہ میں داخل ہو رہے ہیں
اسرائیل
اسرائیل
اسرائیل
امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ہفتے کی صبح ایران پر حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران میں 30 اہداف پر 50 میزائل داغے ہیں۔ ایران نے بھی تہران، اصفہان، تبریز، لورستان اور کرمانشاہ میں میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی دارالحکومت تہران پرہونے والے حملوں میں وزارتِ انٹیلی جنس، وزارتِ دفاع، ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم اور ملٹری کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران نے بھی اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور اسرائیل سمیت مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ ہیں اسرائیلی حکام نے شہریوں کو فوری طور پر شیلٹرز میں جانے کی ہدایت دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا مقصد ”ایرانی حکومت کی جانب سے درپیش فوری خطرات کا خاتمہ“ ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں کے بعد جاری بیان میں کہا کہ “تھوڑی دیر پہلے امریکی فوج نے ایران میں ایک بڑا جنگی آپریشن شروع کیا ہے۔“
ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارا مقصد ایرانی حکومت کے خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔ ہم ان کے میزائلوں کو تباہ اور ان کی میزائل انڈسٹری کو مٹی میں ملا دیں گے۔ ہم ان کی بحریہ کو نیست و نابود کر دیں گے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ خطے میں ان کے ’دہشت گرد‘ گماشتہ (پراکیسیز) اب مزید خطے یا دنیا کو عدم استحکام کا شکار نہ کر سکیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔“
ان کا کہنا تھا کہ ”یہ ایک بہت سادہ سا پیغام ہے: ان کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ اس حکومت کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ کسی کو بھی امریکی مسلح افواج کی طاقت اور عظمت کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔“
ایران پر امریکا اسرائیل مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایرانی خبر ایجنسیوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر سائبر حملے کیے گئے جس کے بعد اب ملک میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہوگئی ہے۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی ہے، جن میں دارالحکومت تہران بھی شامل ہے۔
ادارے کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی معمول کی سطح کے مقابلے میں 54 فیصد تک رہ گئی ہے، جس کے باعث صارفین کو آن لائن رسائی میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔
اُدھر ایران کی مختلف نیوز ایجنسیوں کو منظم سائبر حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے جس کی تصدیق ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی کی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی نیوز ویب سائٹس، جن میں سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے بھی شامل ہے، سائبر حملوں کا ہدف بنی ہیں۔
حملوں کے باوجود آئی آر این اے کا ٹیلی گرام اکاؤنٹ فعال ہے، جس کے ذریعے عوام کو خبریں اور تازہ ترین اپڈیٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملے ملک کے قومی معلوماتی نیٹ ورک کو متاثر کرنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہیں۔
ایرانی حکام نے ان سائبر حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں ملک کو غیر مستحکم کرنے اور درست معلومات کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ایران کی سائبر سیکیورٹی ٹیمیں قومی میڈیا انفراسٹرکچر کی حفاظت اور شہریوں تک معلومات کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
خیال رہے کہ یہ حملے اسرائیل اور امریکا کی حالیہ میزائل فائرنگ کے بعد سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔
حملے کے بعد اسرائیلی حکام کا بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ایران میں 30 اہداف پر 50 میزائل داغے گئے ہیں۔ ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق کرمانشاہ، لورستان، تبریز، اصفہان اور کرج کے شہروں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور ایران ایک مرتبہ پھر نشانے پر ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے تہران کی پوزیشن کیا ہے۔ 2026-2025 کے تازہ ترین اعداد و شمار میں ایران کی فوجی طاقت، میزائل پروگرام اور بحری حکمتِ عملی کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزار پچیس، چھبیس کے تازہ ترین اعداد و شمار میں ترکی خطے میں دفاعی قوت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، جبکہ ایران اپنی بڑی افرادی قوت اور میزائل پروگرام کے باعث تیسرے نمبر پر موجود ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران کی آبادی 8 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے اور اسی بنیاد پر اس کے پاس خطے کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک موجود ہے۔ ایران کی فعال فوجی نفری تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے، جبکہ اس کے علاوہ ساڑھے 3 لاکھ کے قریب ریزرو اہلکار بھی موجود ہیں۔
فضائی قوت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس موجود بیشتر طیارے سرد جنگ کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر ایران کے پاس 5 ہزار 514 طیارے ہیں، جن میں 113 سے 186 کے درمیان لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فضائیہ کی اس کمزوری کو ایران نے اپنے ڈرون پروگرام کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاہد اور مہاجر ڈرونز کو کم لاگت اور مہلک صلاحیت کے باعث عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔
زمینی قوت کے حوالے سے ایران کی فوج کو روایتی جنگ کے لیے مضبوط قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے پاس 1700 سے 1900 کے درمیان ٹینک موجود ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ کرار ٹینک اور اپ گریڈ شدہ ٹی۔سیونٹی۔ٹو شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے پاس پینسٹھ ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں ہیں، جو زمینی نقل و حرکت میں اسے برتری فراہم کرتی ہیں۔ راکٹ سسٹمز اور خودکار توپ خانے کا بھی ایران کے پاس وسیع ذخیرہ موجود ہے۔
میزائل صلاحیت کو ایران کا اہم دفاعی پہلو قرار دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل ذخیرہ موجود ہے۔
خیبر شکن اور فتاح ایران کے جدید ترین میزائلوں میں شامل ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ہائپرسونک صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان میزائلوں کی رینج دو ہزار کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جس سے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ظاہر کی جاتی ہے۔
بحری طاقت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی بحری حکمتِ عملی غیر روایتی نوعیت کی ہے۔ ایران بڑے بحری جہازوں کے بجائے چھوٹی، تیز رفتار کشتیوں اور آبدوزوں پر انحصار کرتا ہے۔
ان کشتیوں کی تعداد ایک سو ایک سے ایک سو سات کے قریب بتائی جاتی ہے، جبکہ انیس آبدوزیں خلیج فارس کے کم گہرے پانیوں میں سرگرم ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر دشمن کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی بڑی افرادی قوت اور مقامی طور پر تیار کردہ میزائل پروگرام اسے خطے کے اہم فوجی کھلاڑیوں میں شامل کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ انہوں نے رواں سال آٹھ جنگیں ختم کروائی ہیں۔ آئیں حقائق کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آٹھ جنگیں ختم کروانے کا دعوٰی حقائق پر مبنی ہے یا پھر مبالغہ آرائی ہے؟
امریکی جریدے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگوں کے خاتمے کا دوبارہ تذکرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں ہوئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ جن تنازعات کو ختم کروانے کا کریڈٹ لیتے ہیں ان میں سے ایک ایسا بھی ہے جسے ٹرمپ نے جنگ قرار دیا، حالانکہ وہ سرے سے جنگ تھی ہی نہیں۔
افریقی ملک کانگو میں روانڈا کے حمایت یافتہ باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان لڑائی جاری ہے، جو اب مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
اسرائیل اور حماس
ڈونلڈ ٹرمپ غزہ جنگ رکوانے کا اکثر ذکر کرتے ہیں، یہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کا معاہدہ ایک بڑی پیش رفت ضرور ہے تاہم اس کے باوجود ایک جانب جہاں اسرائیلی حملے اب بھی جاری ہیں وہیں اس کا مؤقف ہے کہ وہ آخری یرغمالی کی باقیات کی واپسی تک دوسرے مرحلے میں اس وقت تک داخل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب حماس کا مؤقف ہے کہ غزہ میں امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کو ختم اور فلسطینیوں پر حملے بند نہ ہوئے تو معاہدہ معطل کر دیا جائے گا۔
مستقل جنگ بندی اور فلسطینیوں کے لیے دو ریاستی حل تک پہنچنے کا راستہ طویل اور پیچیدہ ہے، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا، بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی، غزہ کے مستقبل کے انتظامات اور اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا جیسے اہم مسائل شامل ہیں، جو فی الحال حل طلب ہیں۔
اسرائیل اور ایران
ٹرمپ اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے خاتمے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ جون میں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی قیادت کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کے الزام کی تردید کی۔
ٹرمپ نے امریکی فضائی حملوں کے بعد جنگ بندی کرائی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ صرف عارضی وقفہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی فی الحال ختم نہیں ہوئی۔
مصر اور ایتھوپیا
مصر، ایتھوپیا اور سوڈان کے درمیان دریائے نیل پر تعمیر ہونے والے ڈیم کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ یہ تنازع جنگ کی صورت اختیار نہیں کر سکا اور ثالثی کی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں۔ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں فریقین میں معاہدہ کرانے میں ناکام رہے تھے۔
بھارت اور پاکستان
رواں سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 4 روزہ مختصر جنگ ہوئی، بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو گئی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ بندی امریکی کوششوں سے ممکن ہوئی، جس کی پاکستان نے تو تعریف کی لیکن بھارت نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
سربیا اور کوسوو
وائٹ ہاؤس نے سربیا اور کوسوو کے تنازع کو بھی ٹرمپ کی کامیابیوں میں شمار کیا ہے، حالانکہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں دونوں کے درمیان جنگ کا کوئی خطرہ نہیں تھا اور نہ ہی اس سال دونوں کے درمیان کوئی سرد مہری دیکھنے میں آئی۔
روانڈا اور کانگو
اگرچہ ٹرمپ نے روانڈا اور کانگو کے درمیان امن معاہدوں میں کردار ادا کیا، مگر مشرقی کانگو میں تنازع اب بھی جاری ہے۔ ایم23 باغی گروپ نے معاہدوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور حالیہ دنوں میں ایک اور شہر پر قبضہ کر لیا، جس سے امن معاہدے پر سوالیہ نشان لگ گیا۔
آرمینیا اور آذربائیجان
رواں سال اگست میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس میں ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد دہائیوں پرانے تنازع کا خاتمہ تھا، تاہم تاحال امن معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور پارلیمانی توثیق بھی باقی ہے۔
کمبوڈیا اور تھائی لینڈ
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع میں ٹرمپ کی مداخلت سے جنگ بندی ممکن ہوئی، تاہم دسمبر کے آغاز میں دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ 27 دسمبر کو ایک نیا جنگ بندی معاہدہ طے پایا، لیکن ماہرین کا کہنا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان بدستور نازک صورتحال ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ بعض تنازعات میں کردار ادا کیا، تاہم آٹھ جنگیں مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ مبالغہ آرائی ہے اور یہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرایران نے نیوکلیئر یا میزائل پروگرام دوبارہ شروع کیا تو کارروائی کریں گے، میں نے سنا ہے کہ ایران دوبارہ ان پروگرامز پر کام کررہا ہے، اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمیں انہیں ختم کرنا پڑے گا اور اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو امریکا اسکی حمایت کرے گا۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر تہران نے اپنی جوہری یا میزائل صلاحیت دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی تو امریکا مزید فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی پیش رفت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب اطلاعات مل رہی ہیں کہ ایران دوبارہ اپنی صلاحیتیں بڑھانے کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو ہمیں ایک بار پھر سخت کارروائی کرنا پڑے گی۔ ہم پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گے، اگرچہ ہماری خواہش ہے کہ حالات اس نہج تک نہ پہنچیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا فلوریڈا کے علاقے پام بیچ میں واقع اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو اسٹیٹ میں استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی صورت حال اور ایران سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات کے ساتھ ساتھ جون میں ایران کے خلاف کی گئی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
صحافیوں کے سوال پر کہ آیا امریکا ایران کے میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی حملے کی حمایت کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران میزائل پروگرام جاری رکھتا ہے تو امریکا اس کی حمایت کرے گا جب کہ جوہری معاملے پر تو فوری کارروائی کی جائے گی۔
امریکی صدر کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے جوہری و دفاعی پروگرام سے متعلق سخت امریکی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کی جانب سے ایک اور ممکنہ حملے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
اتوار کو میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتا، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو ہم پوری طرح دفاع کے لیے تیارہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ سے بچاؤ کا بہترین راستہ یہی ہے کہ اس کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران ماضی کی جارحیت کے نقصانات کا ازالہ کر چکا ہے اور اگر کوئی فریق ماضی کا ناکام تجربہ دہرانا چاہتا ہے تو اسے کوئی بہتر نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔
اسی تناظر میں اتوار کو امریکی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران پر حملے کے معاملے پر بات کر سکتے ہیں۔
امریکی نیوز چینل این بی سی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران پر ایک بار پھر حملے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم 29 دسمبر کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے اور اس دوران ایران پر ممکنہ حملوں سے متعلق اہم بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم صدر ٹرمپ کو ایران کی موجودہ سرگرمیوں، خاص طور پر جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر اور میزائل پروگرام میں توسیع سے آگاہ کریں گے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران تیزی سے اپنی جوہری تنصیبات بحال کر رہا ہے اور اپنے میزائل پروگرام کو وسعت دے رہا ہے، جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کے نتیجے میں وہ جلد ہی ماہانہ بنیادوں پر ہزاروں میزائل تیار کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کی یہ صلاحیت خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ سکتی ہے اور اسرائیل کے لیے براہِ راست خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متوقع ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیراعظم ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے امریکی قیادت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے بڑھتے ہوئے عسکری اور جوہری پروگرام کو فوری اور سنجیدہ خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
این بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ نے 29 دسمبر کی ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ ملاقات باضابطہ طور پر طے نہیں ہوئی، تاہم اسرائیلی حکام نے اس تاریخ کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور ایرانی حکومت نے امریکی مؤقف کی تصدیق کی ہے کہ جون میں کیے گئے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے نتیجے میں ایران کی جوہری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے جوہری یا میزائل پروگرام بحال کرنے کی کوشش کی تو اسے دوبارہ نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
غزہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک اور فلسطینی شہید ہوگیا۔ اسرائیلی بمباری سے غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے میں ایک تین منزلہ عمارت کی چھت گر گئی، تاہم ملبے سے پانچ افراد کو زندہ نکال لیا گیا۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک بچے سمیت دو فلسطینی شہید ہوگئے۔
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 70 ہزار 669 فلسطینی شہید اور 71 ہزار 165 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
ایک مشترکہ صحافتی تحقیق میں دہائیوں پر محیط اسرائیلی اور امریکی مہم کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی اور اس کے اثرات شامل ہیں۔
‘واشنگٹن پوسٹ’ اور نیوز آؤٹ لیٹ ‘پی بی ایس’ کے پروگرام ‘فرنٹ لائن’ کے تعاون سے شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکا کی براہِ راست اور بالواسطہ حمایت سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک کثیر جہتی آپریشن ”آپریشن نارنیا“ چلایا، جو ”رائزنگ لائن“ نامی وسیع تر مہم کا حصہ تھا۔ اس مہم میں ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے قتل، یورینیم افزودگی کی تنصیبات پر حملے اور دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کے لیے کارروائیاں شامل تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے تربیت یافتہ درجنوں ایجنٹ ایران میں تعینات تھے، جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے پائلٹ ایرانی ایٹمی ڈھانچے، بیلسٹک میزائل لانچ پیڈز اور دفاعی نظاموں پر حملے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔
اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچنے کے حوالے سے باریک بینی سے مشاورت کی گئی۔ اس دوران ایران کو ممکنہ حملے سے بے خبر رکھنے کے لیے سفارتی چالیں بھی استعمال کی گئیں۔
اسرائیلی حکام نے ایٹمی پروگرام کو صرف عارضی نقصان پہنچانے کی بجائے اس کے ”ماسٹر مائنڈز“ کو نشانہ بنانے کی ضرورت محسوس کی، تاکہ وہ ایٹمی مواد کو ہتھیار میں تبدیل نہ کر سکیں۔
13 جون کی صبح، اسرائیلی افواج نے تہران میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جس میں 11 ممتاز ایرانی ایٹمی سائنس دان، جن میں ماہر طبیعیات محمد مہدی تہرانچی اور سابق ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ فریدون عباسی شامل تھے، ہلاک کر دیے گئے۔ ان حملوں نے ایران میں انتقام کی آگ بھڑکا دی اور سفارتی مذاکرات کے امکانات کم کر دیے۔
سفارت کاری کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کے چار مختلف منصوبے پیش کیے، جن میں سے کچھ پر ٹرمپ نے سفارت کاری کے ذریعے ایران کو وقت دینے کا فیصلہ کیا جبکہ پسِ پردہ اسرائیل کے حملے کی حتمی منظوری بھی دی گئی۔ اس دوران میڈیا میں اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلافات کے تاثر کو جان بوجھ کر بڑھایا گیا تاکہ ایران غیر متوقع حملے کے لیے تیار نہ ہو۔
نقصانات کا تخمینہ لگاتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو پہنچنے والا نقصان ”تباہ کن“ تھا۔ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق ایران کے پاس اب بھی 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، لیکن اس کی جوہری صلاحیت پر حملوں سے نمایاں اثر پڑا ہے۔
رپورٹ میں سابق اور موجودہ اسرائیلی و امریکی حکام کے انٹرویوز شامل ہیں جن میں سے بعض نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔
اسرائیل ماضی میں بھی ایرانی سائنس دانوں کو قتل کرتا رہا ہے لیکن ہمیشہ اس طرح کہ انکار ممکن ہو۔
مثال کے طور پر 2020 میں محسن فخری زادہ کو تہران کے باہر ہلاک کیا گیا تھا۔ لیکن جون میں ہونے والے حملوں سے اسرائیل کا کردار کھل کر سامنے آیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”آپریشن نارنیا“ کے تحت اسرائیلی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے ایران کے 100 اہم جوہری سائنس دانوں کی فہرست تیار کی، جسے بعد میں 12 اہداف تک محدود کیا گیا۔ امریکی سی آئی اے کے مطابق ایرانی وزارت دفاع کے یونٹ ”سپند“ میں محققین جوہری ہتھیار بنانے کے طریقے تلاش کر رہے تھے۔
صدر جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اسرائیل اور امریکا اس بات پر متفق تھے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے، لیکن انٹیلی جنس ایجنسیاں کبھی کبھار اس تشخیص میں اختلاف کرتی تھیں۔
امریکی اور اسرائیلی تجزیہ کاروں نے ممکنہ فیوژن ہتھیاروں کے امکانات کو بھی جانچا، لیکن یہ ایران کی صلاحیت سے باہر تھے۔
12 جون کو ”رائزنگ لائن“ آپریشن کے دوران آئی اے ای اے نے اعلان کیا کہ تہران نے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے، جو 20 سال میں پہلی سرزنش تھی۔ اس کے بعد امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کو سخت پیغامات بھیجے اور اسرائیل نے حملے کا فیصلہ کر لیا۔ حملے کے بعد ایران کے اہم جوہری مقامات میں نقصانات وسیع تھے، جس سے ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت متاثر ہوئی۔
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کے مطابق حملے سے متعدد جوہری مقامات کو تباہ کن نقصان پہنچا، اور آئی اے ای اے نے بھی اس کی تصدیق کی کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً 900 پاؤنڈ 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد سطح سے صرف ایک قدم دور ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی چین کی مدد سے بیلسٹک میزائل ذخائر دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران دوبارہ اعلیٰ سطح پر یورینیم کی افزودگی شروع کرتا ہے تو نئے حملے کیے جائیں گے۔
ایرانی حکام نے اس کے باوجود کہا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دریافت شدہ ٹیکنالوجی کو چھینا نہیں جا سکتا۔
امریکی جریدے ”نیویارک ٹائمز “ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور اسرائیل و ایران کے درمیان نیا تصادم اب صرف “ کچھ وقت کی بات“ رہ گیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ تہران کے پاس افزودہ یورینیم کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جس سے وہ گیارہ ایٹمی ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ جون میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل-ایران جنگ کے باوجود ایران کی جوہری تنصیبات کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا ابتدا میں سمجھا جا رہا تھا۔ اب اسرائیل اور امریکا دونوں اس امکان پر تیاری کر رہے ہیں کہ جلد ہی ایک نیا تصادم شروع ہوسکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ اس کا افزودہ یورینیم ملبے کے نیچے دفن ہے، جب کہ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اسے کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایران نے اپنی میزائل سازی کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران اب ایسی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں دو ہزار میزائل داغ سکے تاکہ اسرائیلی دفاعی نظام کو مفلوج کیا جا سکے۔
عالمی ماہر علی وائز کے مطابق ”ایران اگلے مرحلے کی تیاریوں میں پوری طرح مصروف ہے، جبکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ پچھلی جنگ کا کام ابھی نامکمل ہے، اسی لیے وہ بھی دوبارہ حملے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔“
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل رک چکا ہے، اور 2015 کا جوہری معاہدہ ختم ہونے کے بعد ایران پر نئی پابندیاں لگ گئی ہیں۔
ایران نے اپنے نئے افزودگی مرکز کا بین الاقوامی معائنہ کرانے سے بھی انکار کر دیا ہے، جس سے خلیجی ممالک میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ایک اور اسرائیلی حملہ تقریباً ناگزیر ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حال ہی میں کہا ہے کہ ”امریکا اگر واقعی تعاون چاہتا ہے تو اسے خطے سے اپنی مداخلت ختم کرنی ہوگی، کیونکہ جو ملک صہیونی ریاست کی حمایت کرتا ہے وہ ایران کا شریکِ دشمن ہے۔“
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی حکام کا ہدف اب صرف ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا نہیں بلکہ ایرانی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اگر دوبارہ جنگ چھڑی تو یہ پچھلی 12 روزہ لڑائی سے کہیں زیادہ شدید اور طویل ہوگی۔
واضح رہے کہ جون 2025 میں ہونے والی اسرائیل-ایران جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 1100 ڈرون حملے کیے تھے، ان میں سے 32 میزائلوں نے کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں 32 اسرائیلی ہلاک اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ایران میں بھی ایک ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف ایران و اسرائیل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے، اور اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات خلیجی ریاستوں، عراق، لبنان اور شام تک پھیل سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے، جہاں اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو براہِ راست نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
کاتز نے یہ بیان اتوار کے روز رامون ایئر فورس بیس کے دورے کے دوران دیا، جہاں انہوں نے اسرائیلی فضائیہ کی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا، ’اگر ایران نے اسرائیل کو دھمکیاں دینا بند نہ کیں، تو ہماری فضائیہ ایک بار پھر تہران تک پہنچے گی، اور اس بار حملے کا نشانہ صرف ایرانی تنصیبات نہیں بلکہ خامنہ ای خود ہوں گے۔‘
یہ دھمکی ایران کے ساتھ 12 دن تک شدید جھڑپیں جاری رہنے کے پس منظر میں دی گئی ہے، جو 13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے فوجی اور جوہری مراکز پر حملے سے شروع ہوئیں۔
جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے، جب کہ امریکہ نے بھی مداخلت کرتے ہوئے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے، بھارت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کونسی پالیسی اپناتا ہے، پاکستان غزہ میں جنگ بندی اور 2 ریاستی حل کا مطالبہ کرتا ہے، پاکستان شام پر اسرائیلی حملوں کی شرید مذمت کرتا ہے، اسحاق ڈار نے دورہ امریکا میں اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نیویارک کے دورے پر ہیں، اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی کی، انہوں نے یو این سیکرٹری جنرل اور صدر جنرل اسمبلی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، پاکستان کی صدارت میں یو این سلامتی کونسل نے اہم قرار داد بھی منظور کی، پاکستان کی صدارت میں سلامتی کونسل نے قرارداد 2788 متفقہ طور پر منظور کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈار نے فلسطین میں اسپتالوں اور اسکولز پر حملوں کی مذمت کی، پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی اور 2 ریاستی حل پر زور دیا، پاک، افغان، ازبک وزرائے خارجہ نے ریل منصوبے پر اجلاس کیا، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی مذاکرات برسلز میں ہوئے، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور جوہری توانائی پر مذاکرات ہوئے۔
شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیلی بمباری اور شام پر حملوں کی شدید مذمت کی، پاکستان نے فلسطین میں انسانی بحران پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، صرف ایک خود مختار فلسطینی ریاست ہی مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہے، پاکستان شام پر اسرائیلی حملوں کی شرید مذمت کرتا ہے، عالمی برادری پر اسرائیلی حملوں کو رکوانے کے لیے زور دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان غزہ فلسطین میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں درجنوں فلسطینیوں کی شہادت کی مذمت کرتا ہے، پاکستان اسرائیل پر فوری حملے روکنے کا مطالبہ کرتا ہے، ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ دوست ملک ہے، ایرانی صدر کے دورے کی تاریخ پر کام ہو رہا ہے، 26 جولائی ایرانی صدر کے دورے کی تاریخ میڈیا رپورٹس میں چلائی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہیں، امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں پاک بھارت جنگ بندی، مشرق وسطی کی صورتحال سمیت دیگر معاملات پر بات چیت ہوگی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات سے نکالنے کے حق میں ہے، تنازعات کے حل کے لیے بھارت کو مذاکرات کا کہہ چکے ہیں، پاک بھارت مسائل کے حل کے لیے امریکی کردار قابل تعریف ہے۔
شفقت علی خان نے مزید کہا کہ پی او آر کارڈز سے متعلق حکومت کی ہدایات کے منتظر ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ افغانستان انتہائی اہم تھا، افغانستان نے ہمارے تحفظات پر مثبت ردعمل دیا ہے، ملا امیر متقی کے دورہ پاکستان کی تاریخوں پر کام کررہے ہیں، محسن نقوی کے دورہ کابل میں سلامتی کے امور پر سرفہرست تھے۔
ان کہنا تھا کہ ایران جوہری معاملے سفارت کاری سے حل ہونا چاہئیں، کسی بھی بھارتی مہم جوئی کے جواب کے لیے تیار ہیں، معرکہ حق کے دوران بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور لیبیا کے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان لیبیا میں قومی وحدت کی حکومت کو تسلیم کرتا ہے، لیبیا میں ہمارا سفارت خانہ فعال ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاک افغان تجارتی معاہدہ انتہائی اہم ہے، مستقبل میں مزید اشیاء کے شامل ہونے کی توقع ہے، ہم برکس کی رکنیت کے لیے سنجیدہ ہیں، ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کی اہمیت سے مطمئن ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای طویل عرصے تک انڈرگراؤنڈ رہنے کے بعد منظرعام پر آگئے ہیں۔ انہوں نے ہفتے کے روز تہران کی امام خمینی مسجد میں عاشورہ کی مناسبت سے منعقدہ مذہبی تقریب میں شرکت کی، جو اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد ان کی پہلی عوامی شرکت ہے۔
85 سالہ رہنما کی ویڈیو ایرانی سرکاری میڈیا نے نشر کی، جس میں انہیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ حاضرین نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا جبکہ خامنہ ای نے ہاتھ ہلا کر اور سر ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دیا۔ اسرائیل سے جنگ کے آغاز (13 جون) کے بعد وہ عوامی منظرنامے سے غائب رہے تھے اور ان کے تمام بیانات پہلے سے ریکارڈ شدہ نشر کیے جا رہے تھے۔
22 جون کو امریکہ نے اسرائیلی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے تین اہم جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کہا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں آیت اللہ کہاں ہیں، مگر فی الحال انہیں قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘
26 جون کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کی طرف سے ’ایران کے ہتھیار ڈالنے‘ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے قطر میں امریکی اڈے پر حملہ کر کے امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔‘
ٹرمپ نے بعد میں جواب دیتے ہوئے کہا، ’آپ ایک صاحبِ ایمان انسان ہیں، اپنے ملک میں آپ کو بڑی عزت حاصل ہے، مگر سچ بولنا پڑے گا، آپ کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔‘
ایران نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ جنگ میں 900 سے زائد ایرانی مارے گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ ایران کے جوابی میزائل حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 28 صیہونی ہلاک ہوئے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان 24 جون کو جنگ بندی نافذ العمل ہوئی۔ اس کے بعد ایران نے اپنے جوہری مراکز کو پہنچنے والے شدید نقصان کی تصدیق کی اور اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (IAEA) کو ان مراکز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔
آئی اے ای اے سے تعاون معطل
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز ایک قانون پر دستخط کیے جس کے تحت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کر دیا گیا۔ جس کے بعد ویانا سے تعلق رکھنے والے ”آئی اے ای اے“ کے معائنہ کار تہران چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔
”آئی اے ای اے“ کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے جمعہ کے روز کہا، ’ہم ایران کے ساتھ جلد از جلد دوبارہ رابطہ بحال کرنا چاہتے ہیں تاکہ جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق دوبارہ شروع کی جا سکے۔‘
ایران کا مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا پابند رہے گا اور ایسی خبروں کو مسترد کیا جن میں ایران کے اس معاہدے سے نکلنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ جنگ شروع ہونے سے قبل جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کر رہے تھے۔ امریکہ، سابق صدر ٹرمپ کے 2018 میں JCPOA (جوائنٹ کمپریہنسیو پلان آف ایکشن) سے نکلنے کے بعد، ایک نئے معاہدے کا خواہاں تھا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت نے جنگ شروع کی تو اس کے 6 طیارے مار گرائے اور اسے سبق سکھا دیا، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت کے خلاف فتح عطا فرمائی، پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کوسبق سکھایا، اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف ایران کی سفارتی طور پر مدد کی، ن لیگ کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت مل گئی، پیپلز پارٹی نے وزارتیں لینے کی خواہش ظاہر نہیں کی، مشکل میں ساتھ دینے والی پیپلزپارٹی کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
لاہور میں حضرت علی بن عثمان الہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخشؒ دربار کے 982 ویں سالانہ غسل کی تقریب منعقد ہوئی، روح پرور ماحول میں دربار شریف کو عرق گلاب اور آب زم زم سے غسل دیا گیاجبکہ نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خصوصی شرکت کی۔
اسحاق ڈار نے لاہور میں واقع معروف مذہبی مقام داتا دربار کی زیارت کی، اس موقع پر صوبائی وزرا شجاع الرحمان، چوہدری شافع، بلال یاسین اور سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے ڈپٹی وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔
نائب وزیراعظم نے مزار شریف کو غسل دیا اور وہاں فاتحہ خوانی اور دعا کی اور مزار پر چادر چڑھائی، اس موقع پر سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے ڈپٹی وزیر اعظم کو مزار شریف پر جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ داتا گنج بخش کا عرس عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے، وزیراعظم، صدر آصف علی زرداری، نواز شریف اور وزیر اعلی کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، داتا دربار کی تزئین و آرائش پر کام شروع ہو چکا ہے، گنبد بلند کردیا گیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مسجد میں مدینہ منورہ والی چھتریاں لگائیں گے، صحن میں چھتریاں لگانے کے لیے مریم نواز نے اجازت دے دی ہے، امید ہے اگلے غسل سے پہلے داتا دربار کا سارا کام مکمل ہوجائے گا، اکتیس مئی 1999 کو نوازشریف نے پہلے افتتاح کیا تھا اب وہ دربار مکمل ہونے جا رہا ہے، شہبازشریف دن رات کوشش کررہے ہیں بے پناہ کامیابی ملی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جنگ شروع کی تو اس کے 6 طیارے گرائے، چھتیس گھنٹے میں اسی ڈرون بھیجے تو پاکستان نے انہیں سبق سکھایا، پاکستان کو بہت عزت و احترام اور کامیابی ملی۔
وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ میں کبھی کبھی مقام آتا ہے 2 سال کےلیے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے رکن منتخب ہو چکے ہیں، ایران پر مشکلات آئیں تو اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف اس کی سفارتی طور پر مدد کی، ایران نے تسلیم کرلیا سچا دوست پاکستان ہے، پارلیمنٹ میں بھی تشکر پاکستان کے نعرے لگائے، شہدا کے جنازوں میں پاکستان کے پرچم لہرائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی دہشت گردی کے نتیجے میں ایرانی آرمی چیف کے جنازے میں بھی پاکستان کے حق میں نعرے لگتے رہے، پاکستان کا ایجنڈا یا خواہش جنگ لڑنے کی نہیں ہے، ہم خطے میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں، اقتصادی ایجنڈہ ہے جس پر دن رات محنت کررہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ آزربائیجان سے دو ارب ڈالر کا معاہدہ کیا، اب مہنگائی میں کمی آئی، 22 سے 11 فیصد سود رہ گیا ہے، ترقی ہوگی، عوام کی فی کس آمدنی بڑھے گی۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے کسی قسم کی خواہش کا اظہار نہیں کیا، وہ اتحادی ہیں مشکل وقت پر ساتھیوں کو نہیں چھوڑا جاتا، پیپلزپارٹی سے بہت تعاون کریں گے، دونوں جماعتوں کا اتحاد ہوا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ کہ قانون اپنا راستہ خود لے گا، اسپانسرڈ قسم کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، سب جماعتوں سے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاک بھارت جنگ میں تمام جماعتیں ایک پلیت فارم پر اکٹھی ہوگئیں۔ دنیا نے پاکستانیوں کی مشترکہ آواز سنی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت جہاں بھی کرپشن ہو، اسے قانون کے تحت ختم ہونا چاہیئے، پاکستان ڈیفالٹ کے کنارے کھڑا تھا اگر تبدیلی نہ آتی تو ڈیفالٹ آجاتا، ڈیفالٹ ہوا میں اڑ گیا، 14 ارب ڈالر زرمبادلہ پہنچ گیا ہے۔
جنگ کے حوالے سے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاک بھارت سیز فائر قائم ہے، خطرہ تو ہر وقت ہی ہے، الرٹ رہنا ہے، اگر کوئی وار کرے، ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے، اس لیے تیاری کی حالت میں ہیں، 30 خوارج کو واصل جہنم کیا گیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کی مجبوری لگتی ہے، اس طرح کے بیانات سے گھبراتے نہیں، پہلے کامیابی ملی آئندہ بھی ملے گی۔
نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے مذاکرات سات 8 ماہ سے چل رہے ہیں، عام ویزوں کا معاملہ بہتر کیا ہے، ان سے درخواست کی ہے کہ بلیو پاسپورٹ کو بھی رسائی دیں۔