اسرائیل کا تہران پر شدید فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان، ایران سے بھی میزائلوں کی بارش جاری
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فوج تہران میں ایرانی حکومت سے منسلک مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے شدید حملے کر رہی ہے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ تہران میں اہداف پر طاقتور حملے کے لیے مسلسل فضائی پل قائم کیا جائے گا۔
تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں اور گزشتہ چند گھنٹوں سے زور دار دھماکوں کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ سڑکوں پر ایمبولینسوں کے سائرن بھی گونج رہے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
اطلاعات کے مطابق سات مقامات پر حملے کیے گئے جن میں تہران کے ہوائی اڈے کے اطراف کا علاقہ بھی شامل ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات کا تعلق فوج سے تھا یا حکومتی اداروں سے۔
عرب خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کا کہنا ہے کہ کچھ حملے بڑے ہوٹلوں اور شاپنگ مالز کے قریب بھی ہوئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی افراد خوراک اور ضروری اشیا جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ صورتحال طویل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اتوار کو بھی ابتدائی وارننگ سسٹم فعال رہا اور آنے والے میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔ حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
تاہم دوحہ کے وسطی صنعتی علاقے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈکوارٹر کے قریب دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
اطلاعات کے مطابق گرنے والے ملبے سے ایک گودام میں آگ لگ گئی جو کچھ دیر تک جاری رہی۔ سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث میڈیا کو وہاں فلم بندی کی اجازت نہیں دی گئی۔
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو ایرانی میزائل قبرص کی سمت فائر کیے گئے، جہاں ہزاروں برطانوی فوجی تعینات ہیں۔
ان کے مطابق میزائل براہ راست قبرص کو نشانہ نہیں بنا رہے تھے، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں خطرہ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہفتے کے روز ایرانی حملے بحرین میں برطانوی فوجیوں کے قریب گرے، تاہم کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
بحرین کے نیشنل کمیونیکیشن سینٹر نے بھی کہا ہے کہ خلیج کے اوپر ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی ایک نئی لہر کو روک لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دفاعی نظام مسلسل فعال ہے اور صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔















