وزیراعظم نے پیٹرولیم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی
وزیراعظم شہباز شریف نے صوبائی حکومتوں کو پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔
جمعے کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزارت پٹرولیم نے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جو بھی پٹرول پمپ مصنوعی قلت کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو اُس کو فوراً بند کیا جائے اور اوگرا اس کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کرے۔
شہباز شریف نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت دی کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، جس کے ذریعے صوبوں کے ساتھ ریل ٹائم ڈیٹا شیئر ہو اور پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ہائی پاورڈ کمیٹی کا اجلاس
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک اورکھپت سے متعلق ہائی پاورڈ کمیٹی کے اجلاس میں توانائی کی صورت حال اور ممکنہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کے موجودہ ذخائر، طلب اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق ایندھن کے مؤثر استعمال اور کھپت میں کمی لانے کے لیے مختلف اقدامات پرمشتمل تجاویز تیار کی گئی ہیں، دفاتر، تعلیمی اداروں اور خدمات فراہم کرنے والے شعبوں کے لیے ورکنگ دنوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم متعارف کرانے جب کہ دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی اپنانے کا منصوبہ ہے، ان اقدامات کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کے دستیاب اسٹاک کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے گا اور مجموعی طلب میں کمی آئے گی۔
اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی جب کہ پلان پر جلد عملدرآمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔














