کویت میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچا دی گئیں

تابوت وصولی کی باوقار تقریب میں صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا شریک
شائع 08 مارچ 2026 08:34am

کویت میں ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچا دی گئیں۔ ریاست ڈیلاویئر کے ڈوور ایئر فورس بیس پر منتقلی کی تقریب ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی اور فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

بین القوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ سفید رنگ کی ’یو ایس اے‘ تحریر والی بیس بال کیپ پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے اس وقت سلامی دی جب فوجی اہلکار امریکی پرچم میں لپٹے تابوتوں کو فوجی طیارے سے اتار کر باہر لے جا رہے تھے۔ ڈوور ایئر فورس بیس وہ مقام ہے جہاں بیرون ملک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی میتیں سب سے پہلے امریکا لائی جاتی ہیں۔

تقریب میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سمیت دیگر اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔

یہ فوجی گزشتہ اتوار کو کویت میں ایک اہم امریکی کمانڈ سینٹر پر ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایک دن قبل امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں میں پانچ مرد اور ایک خاتون شامل تھے جن کی عمریں 20 سے 54 سال کے درمیان تھیں۔ یہ تمام فوجی ریزرو فورس سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں آئیووا کے شہر ڈیس موئنز میں قائم 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا۔ اس یونٹ کی ذمہ داری میدان جنگ میں موجود فوجیوں کو خوراک، ایندھن، سامان اور گولہ بارود فراہم کرنا ہوتی ہے۔

تقریب کے بعد پرچم میں لپٹے تابوتوں کو خصوصی گاڑیوں کے ذریعے ڈوور میں قائم مردہ خانے منتقل کیا گیا جہاں آرمڈ فورسز میڈیکل ایگزامنر سسٹم کے ماہرین لاشوں کی شناخت مکمل کرتے ہیں اور بعد ازاں انہیں تدفین کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے فوجیوں کے تابوت وصول کیے جس پر انہیں بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہلخانہ اور ان کے بچوں پر فخر ہے جنہوں نے ملک کے لیے قربانی دی۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کو ’بہت سخت‘ جواب دے گا اور حملوں کا دائرہ مزید اہداف تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔