ایران نے کئی امریکی فوجیوں کو گرفتار کرلیا ہے: ایرانی سیکیورٹی چیف کا دعویٰ

امریکا نے ایران میں وینزویلا جیسی کارروائی کا سوچا تھا مگر اب وہ پھنس چکا ہے: علی لاریجانی
شائع 08 مارچ 2026 08:37am

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کئی امریکی فوجیوں کو گرفتار کرلیا ہے جنہیں امریکا جنگ میں ہلاک ظاہر کر رہا ہے۔ انہوں نے خطے میں امریکی اڈوں پر حملے جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

علی لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پیغام میں کہا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ متعدد امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا ہے۔ تاہم امریکی حکام ان فوجیوں کے جنگ میں مارے جانے کا دعویٰ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے حقائق کو چھپانے کی کوششیں بے سود ہیں اور وہ زیادہ دیر تک سچائی کو دنیا سے پوشیدہ نہیں رکھ سکیں گے۔

ایرانی سیکیورٹی چیف کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ امریکا کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں بصورت دیگر ایران خود اس کا راستہ روکنے پر مجبور ہوگا۔

علی لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران اپنے رہنماؤں اور عوام کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ظلم کی قیمت ضرور چکانا ہوگی۔

اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی لاریجانی نے کہا کہ امریکا نے سوچا تھا کہ وہ ایران میں بھی وینزویلا جیسا منظرنامہ دہرا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو لگا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کر کے کنٹرول حاصل کر لے گا اور معاملہ ختم ہو جائے گا لیکن اس کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور اب وہ خود اس صورت حال میں بری طرح پھنس چکا ہے۔

ایرانی سیکیورٹی چیف نے کرد گروہوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج نے واضح طور پر انہیں پیغام دیا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی غلطی کی تو انہیں اس کا جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ کرد فورسز کو اس جنگ میں شامل نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اس سے تنازع مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے، حالانکہ اس سے قبل انہوں نے ایک میڈیا انٹرویو میں ایران کے خلاف جنگ میں کردوں کی شمولیت کی صورت میں حمایت کا اظہار کیا تھا۔