ایران پر حملہ: امریکا اب تک کتنا نقصان اٹھا چکا ہے؟

امریکا اس جنگ میں تقریباً 249 ارب روپے یومیہ خرچ کر رہا ہے جب کہ نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔
اپ ڈیٹ 08 مارچ 2026 02:51pm

امریکا کے ایران کے خلاف جاری حملوں کو اب تک کی مہنگی ترین فوجی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں واشنگٹن اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی، ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔ امریکا کو اس جنگ پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جب کہ ایران کے جوابی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کو بھی نمایاں نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال امریکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد اس جنگ کے معاشی اثرات پر عالمی سطح پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

امریکا نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں فضائی حملے شروع کیے جسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ۔ اس آپریشن کے پہلے ہی ہفتے میں امریکی افواج نے ایران کے اندر 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس جنگ کا مقصد ایران میں رجیم چینج ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، یہ کارروائیاں جاری رہیں گی ۔

امریکا نے ایران پر حملوں میں جدید ترین ہتھیار اور طیارے استعمال کیے ہیں، جن میں ٹوماہاک کروز میزائلز، بی ٹو اسٹیلتھ بمبار، ایم کیو 9 ریپر ڈرونز اور جے ڈیم کٹس شامل ہیں۔

معروف دفاعی تھنک ٹینک ’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر امریکا کو تقریباً 89 کروڑ 14 لاکھ ڈالر یومیہ خرچ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اس جنگ میں روزانہ تقریباً 249 ارب روپے بھینٹ چڑھا رہا ہے اور ان اخراجات میں تیزی آتی جارہی ہے۔

امریکا کے ایران پر حملوں میں نقصان کا سب سے بڑا حصہ مہنگے میزائلوں اور بموں پر خرچ ہو رہا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکا نے صرف پہلے 100 گھنٹوں میں تقریبا 2,600 ہتھیار استعمال کیے، جن میں طویل فاصلے کے ٹوماہاک میزائل اور کم فاصلے کے ’جی ڈی اے ایم‘ بم شامل ہیں۔

مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق امریکا نے پہلے روز ابتدائی حملوں میں ایران پر تقریباً 200 سے زائد ٹوماہاک میزائل فائر کیے۔ ایک ٹوماہاک کروز میزائل کی قیمت تقریباً 3.6 ملین ڈالر یعنی تقریباً 1 ارب پاکستانی روپے بنتی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی تنصیبات پر حملوں کے لیے سستے ڈرونز اور میزائل استعمال کیے تاہم انہیں روکنے کے لیے امریکا اور اسرائیل کو انہیں روکنے کے لیے ’تھاڈ‘ اور ’ایس ایم 3‘ جیسے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑے جو انتہائی مہنگے ہیں۔

امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف چار روز میں 500 میزائل اور 1300 ایرانی ڈرونز مار گرائے۔

اس دعوے کو درست مانا جائے تو ان کارروائیوں سے امریکی خزانے کو تقریباً 1.6 بلین ڈالر یعنی تقریباً 448 ارب پاکستانی روپے کا نقصان ہوا۔ ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں یہ اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکا کے اہم اسٹریٹجک اثاثوں اور تنصیبات پر مسلسل حملے کیے جارہے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مجموعی طور پر 27 امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکا کے متاثرہ اثاثوں میں جدید ریڈار سسٹم، ایف 15 اور دیگر جنگی طیارے، سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز اور متعدد سفارت خانے شامل ہیں جب کہ سینٹ کام نے اب تک 6 اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ کے جنوب مغرب میں واقع العدید ایئربیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا اور اہم ترین فضائی اڈہ ہے۔ یہ اڈہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے فارورڈ ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور مصر سے لے کر افغانستان تک امریکی کارروائیوں کو یہیں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

ایران نے جوابی حملوں میں العدید ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ جہاں موجود ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹم متاثر ہونے سے امریکا کو بڑا نقصان ہوا۔ اس ریڈار کی مالیت تقریباً 1.1 ارب ڈالر یعنی 3 کھرب 8 ارب روپے بنتی ہے۔

اس ریڈار کی رینج تقریباً 5 ہزار کلومیٹر تھی اور یہ خلیجی ریاستوں اور امریکی فوج کو ایرانی میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کا سب سے مؤثر ذریعہ تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر سے اس حملے میں ہونے والی تباہی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بحرین میں امریکی بحریہ کا ایک تاریخی اور انتہائی اہم اڈہ واقع ہے جو امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (ففتھ فلیٹ) کا مستقل ہیڈکوارٹر ہے ۔ اس بحری بیڑے کی ذمہ داریوں میں خلیجِ فارس، بحیرہ احمر، اور بحیرہ عرب کے انتہائی اہم اور مصروف ترین آبی تجارتی راستوں کی حفاظت کرنا شامل ہے۔

ایران نے اس نیول ہیڈکوارٹر کو بھی براہ راست نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ ابتدائی حملوں میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اس اڈے کے اندر موجود دو انتہائی اہم سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز کو تباہ کر دیا تھا۔

ان مواصلاتی ٹاورز کی تباہی سے امریکی بحریہ کی خلیج فارس میں اپنے بحری جہازوں کے ساتھ رابطے کی صلاحیت کو زبردست دھچکا پہنچا ہے، جس سے ان کے آپریشنز بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کویت امریکی بری فوج کے لیے خطے کا سب سے بڑا لاجسٹک اور سپلائی مرکز ہے۔ یہاں کیمپ عارف جان، علی السالم ایئربیس اور کیمپ بیوہرنگ جیسے بڑے فوجی اڈے موجود ہیں ۔ پورے خطے میں فوجیوں کی نقل و حرکت، ٹینکوں اور دیگر بھاری سازوسامان کی فراہمی انہی کیمپس کے ذریعے ہوتی ہے۔

کویت پر بھی ایران کے براہ راست میزائل حملے جاری ہیں، ایرانی ڈرونز اور میزائیلوں نے ان فوجی اڈوں پر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ کویت کی حدود میں ہی امریکا کے 6 فوجی اہلکار ہلاک جب کہ تین ایف 15 جنگی طیارے تباہ ہوئے ہیں۔

یکم مارچ کو ایرانی ’شاہد ڈرونز‘ نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں واقع معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون کے تین بڑے کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز پر بھی حملہ کیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے بیان دیا کہ ان حملوں کا مقصد ان ڈیٹا سینٹرز کے امریکی عسکری اور جاسوسی سرگرمیوں میں کردار کو بے نقاب کرنا اور اسے مفلوج کرنا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات کے صنعتی شہر الرویس میں میزائل ڈیفنس سسٹم ’تھاڈ‘ کے ریڈار کو بھی نشانہ بنایا اور اسکی تباہی کا دعویٰ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اردن کے موّفق السلطی ایئر بیس اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی ’تھاڈ‘ اور اس کے ریڈارز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دفاعی ماہرین ’تھاڈ‘ سسٹم کی صرف ایک بیٹری کی قیمت تقریباً 2 سے 3 بلین ڈالر ہوتی ہے اور اس کے ریڈار کی مرمت یا تبدیلی میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔

اس سسٹم کی تباہی امریکا کے لیے بہت بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہے، جس نے متحدہ عرب امارات اور خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کے فضائی دفاع کے مربوط نیٹ ورک کو شدید کمزور کر دیا ہے۔

امریکا کے جاسوسی اور ٹارگٹڈ کلنگ کے لیے مشہور جدید ’ایم کیو9 ریپر‘ ڈرونز بھی اس جنگ میں محفوظ نہیں رہے۔

امریکی حکام کے مطابق اب تک تین ریپر ڈرونز گرائے جا چکے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 90 ملین ڈالر یعنی 25 ارب 20 کروڑ روپے بنتی ہے۔

ایرانی ڈرون حملوں میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے اور دبئی میں امریکی قونصل خانہ بھی متاثر ہوئے۔ ریاض میں معمولی آگ اور محدود نقصان رپورٹ ہوا جب کہ دبئی میں قونصل خانے کے پارکنگ ایریا کو نقصان پہنچا۔

یہ جنگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ نے طول پکڑا تو دفاعی اخراجات کے علاوہ بھی اس کے امریکی معیشت اور عالمی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

ایران پر حملے خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں امریکا میں تیل کی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

موڈیز اینالیٹکس کے چیف اکنامسٹ مارک زینڈی کے مطابق اگر تیل کی فراہمی میں رکاوٹ ایک یا دو ماہ تک جاری رہی تو اس کے سنگین معاشی نتائج ہو سکتے ہیں اور طویل جنگ معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کے مطابق تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافے سے امریکا میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً 0.15 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس جنگ کا بنیادی اثر امریکا کی معیشت پر تیل اور گیس کی قیمتوں کے ذریعے پڑے گا کیوں کہ توانائی کی لاگت بڑھنے سے اشیائے ضروریہ اور دیگر سروسز کے ریٹ بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں امریکا اربوں ڈالر مالیت کے مہنگے ہتھیار استعمال کرتا رہے گا جب کہ ایران خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا رہے گا، جس سے اس جنگ کے اخراجات اور امریکی نقصانات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔