ٹرمپ نے جھوٹا کہا، ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود نہیں: امریکی سینیٹر

ڈونلڈ ٹرمپ اکثر بغیر سوچے سمجھے بیانات دے دیتے ہیں: امریکی سینیٹر چک شمر
شائع 10 مارچ 2026 10:42pm

امریکی سینیٹر چک شمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے دعوے حقائق کے منافی اور غیر سنجیدہ ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹر چک شمر نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود ہیں اور ایران نے انہی میزائلوں سے ایک اسکول کو نشانہ بنایا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود نہیں ہیں۔

چک شمر نے صدر ٹرمپ کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سنو ٹرمپ! ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل نہیں ہیں، تمہارا یہ دعویٰ انتہائی احمقانہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اکثر بغیر سوچے سمجھے بیانات دے دیتے ہیں اور جو کچھ ان کے ذہن میں آتا ہے وہی بول دیتے ہیں۔

امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ایسے بیانات نہ صرف گمراہ کن ہوتے ہیں بلکہ عوام کو بھی غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔

چک شمر نے مزید کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ٹرمپ اکثر جھوٹ بولتے ہیں اور ان کے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ اسکول کو غالباً ٹوماہاک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا جو ممکنہ طور پر امریکا کی جانب سے داغا گیا تھا، کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران اور اسرائیل کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود نہیں ہیں۔

پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکا اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرے گا۔

اس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹوماہاک ایک بہت طاقتور ہتھیار ہے اور اسے دیگر ممالک بھی استعمال کرتے ہیں، یہ کئی ممالک کو فروخت کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ممکن ہے ایران کے پاس بھی کچھ ٹوماہاک میزائل ہوں، یہ ایران بھی ہو سکتا ہے یا کوئی اور ملک، تاہم اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔