’ہمارے بچے محفوظ نہیں‘: ایران کا فٹبال ورلڈکپ میں شرکت سے انکار
ایرانی وزیر کھیل احمد دنیا مالی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے ورلڈ کپ میں شرکت ممکن نہیں ہے۔
بدھ کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے احمد دنیا مالی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران کے لیے اس ملک میں ہونے والے کسی بڑے کھیلوں کے ایونٹ میں شرکت کرنا ممکن نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ایران کسی صورت ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکتا۔
واضح رہے کہ آئندہ فٹبال ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر منعقد کر رہے ہیں، تاہم ایران کے گروپ مرحلے کے تمام میچ امریکا کے شہروں میں رکھے گئے ہیں جن میں لاس اینجلس اور سی ایٹل بھی شامل ہیں۔ اسی وجہ سے ایرانی حکومت کے لیے اس ٹورنامنٹ میں شرکت ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔
ایرانی وزیر کھیل کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری جنگی صورتحال کے باعث عوام خاص طور پر بچوں کی سلامتی خطرے میں ہے، اس لیے اس وقت کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے مناسب حالات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران ایران پر دو جنگیں مسلط کی گئیں اور ان حملوں میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس لیے ایسے حالات میں ایران کی ٹیم کو امریکا بھیجنا ممکن نہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی حکومت کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے باضابطہ طور پر ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کے بارے میں واضح بیان دیا ہے۔
اس سے قبل ایران کی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
یکم مارچ کو سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ حالیہ حملوں کے بعد یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ایرانی عوام ورلڈ کپ کے بارے میں خوشی یا امید محسوس کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو کسی بھی ملک کے لیے اپنی قومی ٹیم کو ایسے مقام پر بھیجنا مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی فٹبال تنظیم ’فیفا‘ کے صدر جیانی انفانتینو نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے خوش آمدید کہنے کا اعادہ کیا ہے۔
انفانتینو کے مطابق انہوں نے حال ہی میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ٹورنامنٹ کی تیاریوں اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی۔
انفانتینو نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی ٹیم کو امریکا میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت ہوگی۔
یہ ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا اور ایران ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جس نے اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔
دوسری طرف ایران کے وزیر تعلیم علی رضا کاظمی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 206 طلبہ اور اساتذہ جاں بحق جبکہ 161 زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے یہ بیان جنگ میں مارے جانے والے فوجی کمانڈروں کی ایک جنازہ تقریب کے موقع پر دیا۔
















