گرمیوں کے کون سے دو مہینے گنے کا رس پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟

اس موسم میں یہ کولڈ ڈرنکس کا صحت مند اور مزیدار متبادل سمجھا جاتا ہے۔
شائع 19 مارچ 2026 10:55am

جیسے ہی گرمیوں کا موسم شروع ہوتا ہے، لوگ ٹھنڈے مشروبات کی خواہش محسوس کرتے ہیں اور سڑک کنارے ملنے والا تازہ ٹھنڈا میٹھا گنے کا رس سب کی پہلی پسندید بن جاتا ہے۔ اس کا تازگی بھرا ذائقہ تپتی دھوپ میں جسم اور دماغ دونوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور مجموعی طور پر یہ کولڈ ڈرنکس کا صحت مند اور مزیدار متبادل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سال کے دو مہینے ایسے ہیں جب گنے کا رس بالکل نہیں پینا چاہیے؟

ماہرین کے مطابق، یہ مہینے ہیں مارچ اور اپریل۔ آیوروید کے مطابق اس دوران گنے کا رس پینا صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

گنا عام طور پر سردیوں کی فصل ہے۔ مارچ اور اپریل تک آتے آتے گنا کافی پرانا ہو چکا ہوتا ہے۔ طویل عرصے تک اسٹور کیے جانے کی وجہ سے اس میں خمیر اٹھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا رس پینے سے پیٹ کی بیماریاں اور بدہضمی ہو سکتی ہے۔

آیوروید کے مطابق، مارچ اور اپریل کا وقت موسم کی تبدیلی کا ہوتا ہے۔ اس دوران انسانی جسم میں ’کف‘ (بلغم اور بھاری پن) بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

گنے کا رس اپنی تاثیر میں ٹھنڈا اور میٹھا ہوتا ہے، جو جسم میں کف کو مزید بڑھا کر نزلہ، زکام، گلے کی خرابی اور سستی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ رس ہاضمے کے مسائل، جیسے تیزابیت اور جلدی مسائل کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مارچ اور اپریل میں صرف گنے کا رس نہیں، بلکہ زیادہ خمیری یا کھٹی غذائیں بھی کم کھانی چاہئیں۔ مثال کے طور پر دہی زیادہ مقدار میں نہ کھائیں۔ اسی طرح بھاری اور تلی ہوئی غذائیں بھی محدود رکھنی چاہئیں، ورنہ ہاضمے کی پریشانی، جسمانی سستی اور جلدی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس دوران کھانے میں ہلکی، تازہ اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں شامل کریں۔ مثال کے طور پر سَتّو، مونگ دال اور ہری سبزیاں بہترین رہتی ہیں۔

ماہرین خاص طور پر نیِم کے پتے کھانے کی بھی سفارش کرتے ہیں، کیونکہ یہ جسم کی صفائی اور ڈیٹاکس کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔