ایک روٹ کینال، کئی فائدے: شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے خوشخبری
ایک نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ متاثرہ دانت کے لیے کیا جانے والا روٹ کینال علاج نہ صرف دانت کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ یہ جسمانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
کنگز کالج آف لندن کی اس تحقیق کے مطابق دانت کے انفیکشن کو روٹ کینال کے ذریعے ٹھیک کرنا مجموعی طور پر دل کی صحت اور خون میں شوگر کی سطح کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ اس سے دل کی بیماریوں سے متعلق سوزش میں بھی کمی آتی ہے۔
یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ منہ کی صحت اور جسم کی مجموعی صحت آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔
تحقیق کے دوران ایسے مریضوں کا دو سال تک جائزہ لیا گیا جنہوں نے دانت کے انفیکشن (اپیکل پیریوڈونٹائٹس) کے لیے کامیاب روٹ کینال علاج کروایا تھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ انفیکشن ختم ہونے کے بعد جسم کے مختلف نظام بہتر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب دانت کا انفیکشن ختم ہوتا ہے تو جسم گلوکوز کو بہتر طریقے سے مینیج کرنے لگتا ہے، جس سے مستقبل میں ذیابیطس کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خون میں موجود وہ زہریلے مادے جو دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، علاج کے بعد بتدریج ختم ہونے لگتے ہیں۔
تحقیق میں کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائیڈز کی سطح میں کمی دیکھی گئی، جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
تحقیق میں ایک اہم اصطلاح ’لیکی ٹوتھ‘ استعمال کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دانت کی جڑ میں انفیکشن ہوتا ہے تو وہاں موجود خطرناک بیکٹیریا دانت سے نکل کر براہِ راست آپ کے دورانِ خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔
خون میں پہنچ کر یہ بیکٹیریا پورے جسم کے مدافعت نظام کو برہم کر دیتے ہیں، جس سے میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
روٹ کینال دراصل اس ’لیک‘ کو مستقل طور پر سیل کر دیتا ہے، جس سے جسم پر پڑنے والا اضافی دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔
کنگز کالج لندن کی ڈاکٹر اور تحقیق کی سربراہ ڈاکٹرسعدیہ نیازی کہتی ہیں،’روٹ کینال صرف دانت کو بچانے کا علاج نہیں بلکہ یہ دل کی بیماریوں اور ذیابیطس جیسے مسائل کے خطرے کو بھی کم کر سکتا ہے۔‘
یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ منہ کی صحت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت علاج نہ کروانے سے چھوٹا سا دانت کا مسئلہ بڑی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ دانتوں کے ڈاکٹر اور دیگر معالجین کو مل کر مریضوں کی مجموعی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔
دانتوں کے درد کو محض ایک معمولی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک ”خفیہ انفیکشن“ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے۔
ابتدائی تشخیص اور بروقت روٹ کینال کے ذریعے ہم نہ صرف مسکراہٹ بلکہ انسانی جانوں کو بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔
















