جنگ بندی کے باوجود حملوں کی اطلاعات؛ پاکستان کا اظہارِ تشویش، فریقین سے تحمل کی اپیل
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن عمل کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کچھ علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئی ہیں، جو امن کے لیے جاری کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے امریکی اور ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور باہمی رضامندی سے طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا احترام کریں، تاکہ سفارت کاری کے ذریعے اس تنازعے کا پُر امن حل نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی کامیاب ثالثی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کا بنیادی مقصد خطے میں جاری تباہ کن جنگ کو روکنا اور فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
تاہم جنگ بندی کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد ایران کی لاوان آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا جب کہ خلیجی ممالک میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں سیکیورٹی صورت حال دوبارہ کشیدگی کی جانب بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اُدھر اسرائیلی فوج نے لبنان میں متعدد مقامات پر 100 فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں بیروت اور دیگر علاقوں میں شدید تباہی رپورٹ ہوئی ہے۔ یہ حملے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیے گئے۔
حملوں کے نتیجے میں متعدد ہسپتالوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، اور حکام نے ڈاکٹروں، نرسوں اور ہر اس شخص کو جو طبی تجربہ رکھتا ہو، فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں جانے کی ہدایت کی ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی جنوبی صوبے فارس میں جدید اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ حالیہ عارضی جنگ بندی کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔















