اسلام آباد ڈائیلاگ: ایرانی سفیر نے وفد کی پاکستان آمد سے متعلق بیان ڈیلیٹ کردیا
ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری مقدم کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ اچانک ہٹادی گئی جس میں ایرانی وفد کی پاکستان آمد کے حوالے سے اطلاع دی گئی تھی۔
رضا امیری مقدم کی جانب سے آج صبح ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ شائع کی گئی تھی جس میں ایران کے وفد کی پاکستان آمد کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم اب یہ پوسٹ پلیٹ فارم پر دستیاب نہیں ہے اور صارفین اسے دیکھ نہیں پا رہے ہیں۔
پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچے گا تاکہ امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے۔
رضا امیری مقدم نے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایرانی وفد آج رات اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا تاکہ ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کے تحت مذاکرات کیے جائیں۔
انہوں نے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایرانی وفد کا یہ دورہ اس باوجود ہو رہا ہے کہ ایرانی عوام میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس سفارتی اقدام کو ناکام بنانے کی کوششوں کے حوالے سے شک و شبہات پائے جا رہے ہیں۔
ایرانی سفیر نے مزید لکھا تھا کہ ایران اس امن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ ہے اور پاکستانی قیادت کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اب تک پوسٹ ہٹانے کی وجہ یا اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر رضامندی ظاہرکی تھی، جس کے بعد اب دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کریں گے۔
امریکا نے پاکستان کی ثالثی میں ایران سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کا 3 رکنی وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیاتھا جب کہ وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
بدھ کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں، جس کا مقصد خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے ایشیائی امور اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کی صبح اسلام آباد میں ہوگا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
















