اسلام آباد مذاکرات بنا کسی نتیجے کے ختم: امریکی اور ایرانی وفود معاہدہ کیے بغیر روانہ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 21 گھنٹوں پر محیط طویل نشستوں کے بعد اعلان کیا کہ ان کی ٹیم کسی نتیجے پر پہنچے بغیر واپس امریکا روانہ ہو رہی ہے۔ ایرانی وفد بھی گزشتہ رات تہران واپس روانہ ہوچکا ہے۔ اس ناکامی سے دو ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے اور میرا خیال ہے کہ یہ خبر امریکا کے مقابلے میں ایران کے لیے زیادہ بری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا نے اپنی شرائط اور ریڈ لائنز بالکل واضح کر دی تھیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق مذاکرات میں ناکامی کی بڑی وجہ ایران کا امریکی شرائط کو قبول نہ کرنا تھا، جن میں خاص طور پر ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی شرط شامل تھی۔
انہوں نے ائیر فورس ٹو طیارے پر سوار ہونے سے قبل میڈیا کو بتایا کہ ہمیں ایران کی جانب سے ایک پختہ عہد کی ضرورت ہے کہ وہ نہ تو ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی ایسا کوئی ذریعہ حاصل کرے گا جس سے وہ تیزی سے ایٹمی صلاحیت حاصل کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ امریکی صدر کا بنیادی ہدف ہے اور ہم نے ان مذاکرات کے ذریعے یہی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے کہا ہے کہ امریکا کے غیر معمولی مطالبات معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے جس کے باعث بات چیت ختم ہو گئی۔
مذاکرات کے خاتمے کے باضابطہ اعلان سے کچھ دیر پہلے ایرانی حکومت نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ بات چیت جاری رہے گی اور دونوں اطراف کے تکنیکی ماہرین دستاویزات کا تبادلہ کریں گے، تاہم وینس کے بیان نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
ان مذاکرات کے دوران جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل رابطہ رکھا اور انہیں پل پل کی خبر دی، لیکن وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کسی پیش رفت کا ذکر نہ کر سکے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کا اہم راستہ ہے جسے ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد جمعہ کے روز سیاہ لباس پہن کر اسلام آباد پہنچا تھا۔
ایرانی حکومت کے مطابق یہ لباس سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور جنگ میں مارے جانے والے دیگر افراد کے سوگ کی علامت تھا۔
ایرانی وفد اپنے ساتھ ان طلباء کے جوتے اور بستے بھی لایا تھا جو ایک فوجی کمپاؤنڈ کے قریب اسکول پر امریکی بمباری میں جان بحق ہوئے تھے۔
رائٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان مذاکرات کے دوران دونوں اطراف کے رویوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور کئی مواقع پر ماحول کافی کشیدہ بھی رہا۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات گزشتہ دس سالوں میں پہلا براہِ راست رابطہ اور 1979 کے انقلاب کے بعد سب سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات تھے۔ ان مذاکرات کے لیے بیس لاکھ کی آبادی والے شہر اسلام آباد کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا اور سڑکوں پر ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔
اگرچہ یہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک سہولت کار کے طور پر اپنا بہترین کردار ادا کیا، جو اس ملک کی سفارتی اہمیت میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا یہ عارضی جنگ بندی برقرار رہ پائے گی یا خطہ دوبارہ کسی بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ جائے گا۔











