امریکا سے مذاکرات کی ناکامی؛ ’ایران کے پاس ترپ کے پتے ہیں‘

ایران نہ صرف آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے بلکہ اب اسے مؤثر انداز میں منظم بھی کر رہا ہے: مشرقِ وسطیٰ سابق امریکی مذاکرات کار
شائع 12 اپريل 2026 10:07am

مشرقِ وسطیٰ کے سابق امریکی مذاکرات کار نے کہا ہے کہ حالیہ ایران-امریکا مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران کے پاس امریکا کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن اور خوفناک صلاحیت موجود ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق مشرقِ وسطیٰ مذاکرات کار ایرون ڈیوڈ ملر نے 21 گھنٹے جاری رہنے والے ایران-امریکا مذاکرات کے بغیر کسی معاہدے کے اختتام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں کے پاس واضح طور پر امریکیوں کے مقابلے میں زیادہ کارڈز ہیں۔

سی این این کی رپورٹر لورا شرمن کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے امریکی نیوز چینل سی این سین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی رعایت دینے میں جلدی میں نظر نہیں آتا اور بظاہر وہ امریکا کے مقابلے میں سست رفتار حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

ایرون ڈیوڈ ملر کے مطابق ایران کے پاس اب بھی اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم موجود ہے، جبکہ اس نے جغرافیائی حیثیت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی ظاہر کی ہے۔

۔

انہوں نے کہا کہ ایران نہ صرف آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے بلکہ اب اسے مؤثر انداز میں منظم بھی کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، جس پر کنٹرول ایران کو ایک بڑی اسٹریٹجک برتری فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت نہ صرف قائم رہی بلکہ اس نے سیکیورٹی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی خوفناک صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا ہے، اور یہی تمام عوامل ایران کے مضبوط کارڈز ہیں۔

ایرون ڈیوڈ کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس بات کو ترجیح دے سکتا ہے کہ وہ کسی معاہدے کے بغیر مذاکرات ختم کرنے کے بجائے امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کا خطرہ مول لے۔

واضح رے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔

اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 21 گھنٹوں پر محیط طویل نشستوں کے بعد اعلان کیا کہ ان کی ٹیم کسی نتیجے پر پہنچے بغیر واپس امریکا روانہ ہو رہی ہے۔ ایرانی وفد بھی گزشتہ رات تہران واپس روانہ ہوچکا ہے۔ اس ناکامی سے دو ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔