گیس کی قلت: پانی سے چلنے والا انوکھا چولہا
بھارت میں توانائی کے متبادل ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اب باورچی خانوں میں روایتی گیس سلنڈر (ایل پی جی) کی چھٹی ہونے والی ہے کیونکہ ہائیڈروجن چولہا متعارف کروا دیا گیا ہے، جو گیس کے بجائے پانی سے بننے والی ہائیڈروجن پر چلتا ہے۔
بھارت نے ماحول دوست توانائی کی سمت میں ایک سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ملک میں تیار کردہ ایک ایسا جدید ککنگ اسٹو (چولہا) خبروں کی زینت بنا ہوا ہے جو کسی بھی قسم کے گیس سلنڈر یا روایتی ایندھن کا محتاج نہیں۔
یہ چولہا مکمل طور پر ’گرین ہائیڈروجن‘ پر کام کرتا ہے اور اسے مستقبل کے کچن کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ عام گیس چولہے سے بالکل مختلف ہے۔ اس میں ایک ’کیٹلیٹک ہائیڈروجن برنر‘ نصب ہے جو ہائیڈروجن گیس کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔
یہ ہائیڈروجن کو کنٹرول شدہ طریقے سے استعمال کرتے ہوئے کم یا تقریباً بغیر شعلے کے کھانا پکانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد توانائی کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا اور صاف ستھرا کچن ماحول فراہم کرنا ہے۔
نمایاں خصوصیات
زیرو ایمیشن: اس چولہے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہائیڈروجن جلتی ہے، تو وہ فضا میں موجود آکسیجن کے ساتھ مل کر آبی بخارات پیدا کرتی ہے۔ یعنی اس چولہے سے دھوئیں کے بجائے ہلکی سی بھاپ نکلتی ہے، جو اسے بند کمروں اور کچن کے لیے آئیڈیل بناتا ہے۔
جدید ڈیزائن: اسٹین لیس اسٹیل کی باڈی اور دو برنرز پر مشتمل یہ چولہا دیکھنے میں عام اسٹو جیسا ہی ہے لیکن اس کی ٹیکنالوجی بے حد جدید ہے۔
خاموش آپریشن: یہ آلہ بغیر شور کے چلتا ہے اور اندرونی استعمال کے لیے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔
حفاظتی نظام: چونکہ ہائیڈروجن ایک حساس گیس ہے اس لیےچولہے میں حفاظتی نظام بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں پریشر کنٹرول، فلیم اریسٹر اور خاص والو سسٹم شامل ہیں تاکہ ہائیڈروجن کو محفوظ انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
ہائیڈروجن میں ایل پی جی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ توانائی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کم مقدار میں ہائیڈروجن استعمال کر کے زیادہ کھانا پکایا جا سکتا ہے۔ یہ روایتی ایندھن کے مقابلے میں 50 سے 60 فیصد زیادہ کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کو گھروں کے بجائے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے آزمایا جا رہا ہے، جیسے کہ کمیونٹی کچن، ریسرچ لیبز، تعلیمی ادارے، سرکاری توانائی منصوبے، دفاعی تنصیبات اور دور دراز کے علاقے جہاں گیس سلنڈر پہنچانا مشکل ہے۔
فی الحال اس ٹیکنالوجی کا استعمال قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے محدود ہے اور ہائیڈروجن کی دستیابی بھی ایک چیلنج ہے۔ لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے ہائیڈروجن کی دستیابی آسان ہوگی، اس کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
یہ ایجاد نہ صرف ایل پی جی کے بحران کا حل ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آلودگی کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ یہ پروڈکٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کا باورچی خانہ سلنڈروں سے پاک اور جدید ایندھن سے لیس ہوگا۔
















