امریکا کے ایران کے ساحلی شہر بندر عباس پر فوجی مقام پر فضائی حملے

تین روز کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب امریکا نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا
شائع 28 مئ 2026 09:33am

امریکا نے ایران پر ایک بار پھر نئے حملے کرتے ہوئے اسٹریٹجک بندرگاہی شہر بندر عباس میں ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے اطراف خطرہ بننے والے ایران کے چار یک طرفہ حملہ آور ڈرون بھی مار گرائے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ اور بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سینٹ کام نے بتایا کہ بندر عباس میں موجود فوجی مقام کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں سے پانچواں ڈرون لانچ کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہر کے مشرقی علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے اور تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی جبکہ عالمی توانائی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تین روز کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب امریکا نے ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ واشنگٹن کا کہنا تھا کہ یہ حملے دفاعِ ذات کے تحت کیے گئے۔ تاہم نئی جھڑپوں نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی کارروائیاں محدود، مکمل طور پر دفاعی اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے مقصد کے تحت کی گئیں۔

اس سے قبل رواں ہفتے پیر کے روز امریکا نے جنوبی ایران میں بھی دفاعی نوعیت کے حملوں کی تصدیق کی تھی، جن میں ایرانی میزائل تنصیبات اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تنازع کے باعث ہزاروں تجارتی آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سینٹ کام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایرانی افواج سے لاحق خطرات کے مقابلے میں امریکی فوجیوں کا تحفظ تھا۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا جبکہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک جنگی طیارے اور ایک دوسرے ڈرون پر بھی فائرنگ کی گئی، تاہم اس واقعے کا وقت نہیں بتایا گیا۔

بدھ کے روز کابینہ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران انتہائی دباؤ میں مذاکرات کر رہا ہے اور ان کی جنگی حکمت عملی نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے متاثر نہیں ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا ممکن ہے ہمیں دوبارہ جا کر معاملہ مکمل کرنا پڑے، اور ممکن ہے نہ کرنا پڑے۔

اسی اجلاس کے دوران انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہام معاہدوں میں شامل ہوں۔ صدر ٹرمپ ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر تہران نے امریکی شرائط قبول نہ کیں تو بڑے پیمانے پر بمباری دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 28 فروری کو امریکا کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ بھی اسرائیل کی لڑائی جاری ہے۔