’میں کسی سے نہیں ڈرتا‘: پوپ کا ٹرمپ کی تنقید پر جواب؛ امریکا میں نئے مذہبی اور سیاسی طوفان کا خدشہ

کسی بھی دباؤ یا تنقید سے خوفزدہ نہیں جنگ کیخلاف آواز اٹھاتا رہوں گا، ٹرمپ کے بیان پر پوپ لیو کا ردِعمل
اپ ڈیٹ 13 اپريل 2026 04:03pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم کے درمیان ایران کی جنگ اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے حالیہ بیان اور پوپ کے امن سے متعلق مؤقف کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پوپ لیو چہارم کی خارجہ پالیسی سے متعلق رائے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوپ کے مؤقف سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کے مطابق پوپ کی پالیسی ’انتہائی کمزور‘ ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے پوپ کا مؤقف ایک ایسے ملک کے حق میں سمجھا جا رہا ہے جس پر عالمی سطح پر سنگین الزامات عائد ہیں۔

یہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب پوپ لیو چہارم نے ایران کے خلاف امریکی جنگی بیانات پر تشویش کا اظہار کیا اور جنگ بندی سے قبل سخت بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

پوپ نے اپنے بیان میں امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعلیمات کے مطابق جنگ کو جواز نہیں دیا جا سکتا اور عالمی رہنماؤں کو امن کے راستے پر آنا چاہیے۔

اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں پوپ کی قیادت اور خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف ویٹیکن کا مؤقف سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب پوپ لیو چہارم نے الجزائر کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا پیغام انجیل کی تعلیمات پر مبنی ہے اور اسے سیاسی بیانات کے برابر رکھنا درست نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ یا تنقید سے خوفزدہ نہیں اور دنیا میں امن، مفاہمت اور جنگ سے بچاؤ کا پیغام دیتے رہیں گے۔

پوپ لیو کا کہنا تھا کہ وہ کسی غیر ضروری بحث میں پڑنا نہیں چاہتے، تاہم جنگ اور تشدد کے خلاف اپنا مؤقف کھل کر پیش کرتے رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے امن، مکالمہ اور ممالک کے درمیان متوازن اور کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ تکلیف کا شکار ہیں اور بے گناہ افراد جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی آگے بڑھ کر یہ بات کرے کہ تنازعات کا بہتر اور پرامن حل بھی ممکن ہے۔

پوپ لیو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی دباؤ یا تنقید سے مرعوب نہیں ہوں گے اور امن، مفاہمت اور جنگ سے اجتناب کا پیغام دیتے رہیں گے۔ پوپ کے مطابق ’طاقت کا زعم‘ موجودہ عالمی تنازعات کی بڑی وجہ ہے اور مذہب کا اصل پیغام انسانوں کو جنگ سے دور رکھنا ہے۔

اس صورتحال پر امریکی کیتھولک چرچ کے رہنماؤں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آرچ بشپ پال کوکلے نے کہا کہ پوپ کسی کے سیاسی حریف نہیں بلکہ ایک روحانی رہنما ہیں جو انسانیت اور امن کا پیغام دیتے ہیں۔