آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے امریکا کے ساتھ کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوا: ابراہیم عزیزی

حقوق کسی بھی مذاکرات یا دباؤ کے تحت قابلِ دستبرداری نہیں ہیں: ابراہیم عزیزی
شائع 28 مئ 2026 11:33am

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں آکر اپنی ریڈ لائنز سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے امریکا کے ساتھ کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ابراہیم عزیزی نے واضح کیا ہے کہ پابندیاں ختم کرنا ایران کا بنیادی اور مرکزی مطالبہ ہے، جبکہ ایران کو یورینیم افزودگی اور اس کی مکمل ملکیت کا حق حاصل ہے۔

ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ حقوق کسی بھی مذاکرات یا دباؤ کے تحت قابلِ دستبرداری نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری علی باقری کنی نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بن سکتے۔

علی باقری کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کی اتھارٹی برقرار رہے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اس کے انتظامات کے حوالے سے امریکا کے ساتھ تاحال کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ جمعرات کی صبح امریکا کی جانب سے ایران کے ساحلی شہر بندر عباس پر فضائی حملے کیے گیے ہیں جس کے جواب میں ایران نے امریکی ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ جس پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز نے کہا ہے کہ خطے میں ایک امریکی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، آئندہ کسی بھی حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔