مسیحا جیسی اے آئی تصویر پر تنازع، تنقید کے بعد ٹرمپ نے تصویر ہٹا دی

میں نے خود کو ڈاکٹر بنا کر پیش کیا اور میں لوگوں کو بہت بہتر کرتا ہوں: امریکی صدر
شائع 13 اپريل 2026 11:23pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) جنریٹڈ تصویر شیئر کیے جانے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہوگیا، جس کے بعد انہیں اپنے ہی حمایتی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تاہم انہوں نے یہ تصویر سوشل میڈیا سے ہٹا دی۔

دو روز قبل امریکی ڈاکٹر نے صدر ٹرمپ کے دماغی معائنے کے لیے خط لکھا تو آج امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں 2 پوسٹوں نے ان کی ذہنی حالت پر مزید سوالات اٹھائے۔

صدر ٹرمپ نے پہلے تو عیسائیوں کے مذہبی پییشوا پوپ لیو پر جنگ کے خلاف بیانات دینے پر شدید تنقید اور توہین کی تو دوسری جانب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تصویر شیئر کی، جس میں انہیں حضرت عیسیٰ مسیح جیسے روپ میں ایک مریض کو شفا دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تصویر میں ٹرمپ کو ایک اسپتال کے بستر پر موجود مریض پر ہاتھ رکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جب کہ اردگرد نرسیں، فوجی اہلکار اور دیگر افراد موجود ہیں۔ پس منظر میں امریکی پرچم، عقاب اور جنگی طیارے بھی نظر آتے ہیں۔

اس تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف مخالفین بلکہ ان کے اپنے سیاسی اور حمایتی حلقوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ شدید ردعمل کے بعد امریکی صدر نے مذکورہ تصویر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہٹا دیا تاہم اس حوالے سے ان کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

اس معاملے پر صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آپ نے کرائسٹ کی عکاسی کرنے کی کوشش کی؟ جس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ میں نے خود کو ڈاکٹر بنا کر پیش کیا، میں نے سوچا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں، ڈاکٹر لوگوں کو اچھا کرتا ہے اور میں لوگوں کو بہت بہتر کرتا ہوں۔

یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے حال ہی میں پوپ لیو XIV پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں “کمزور” اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ناکام قرار دیا تھا۔

اس تصویر کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور متعدد صارفین نے اسے مذہبی جذبات کی توہین اور “بلاسفیمی” سے تعبیر کیا ہے۔ کچھ مذہبی حلقوں اور سیاسی شخصیات نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنازع نے امریکا اور ویٹیکن کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث جاری ہے۔

اس تصویر پر سابق کانگریس رکن ٹیلر گرین نے کہا کہ یہ توہین مذہب سے بھی زیادہ ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان پوپ لیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہ ایرانی قوم آپ کی توہین کی شدید مذمت کرتی ہے، حضرت عیسی امن اور بھائی چارے کے پیغمبر تھے۔