امریکا سے مذاکرات کے لیے وفد اسلام آباد جا سکتا ہے: ایران
ایران نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے بعد پیغامات کا تبادلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے، پاکستانی ثالثی کے ذریعے سفارتی رابطے بھی برقرار ہیں اور مکمل جنگ بندی کے حصول کے لیے مزید بات چیت متوقع ہے۔ اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ بھی پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، جسے جاری سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان متعدد پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ بھی پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، جو سفارتی رابطوں کا حصہ ہے۔
انہوں نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ اتوار سے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کے ذریعے بہت سے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور ایران کا مؤقف اس معاملے پر واضح ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ پیغامات کے اس تبادلے کے دوران اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کا ایک وفد ایران کا دورہ کرے گا تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ ہونے والے مذاکرات مکمل جنگ بندی کے حصول کے لیے ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران لبنان کی مزاحمت کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا اور خطے میں کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا پاسبان اور نگہبان ہے اور اپنے علاقائی کردار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران ہمیشہ یہ مؤقف رکھتا ہے کہ جوہری افزودگی کے معاملے پر بات چیت ہو سکتی ہے، تاہم عالمی حقوق کی بنیاد پر ایران کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران نے کہا ہے کہ یک طرفہ شرائط پر مبنی عمل کو مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔ اسلامی جمہوریہ ایران ایسے کسی بھی دباؤ یا حکم کو قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا کہ ایران چند دنوں میں ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کہا کہ ایسے دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایران سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
ترجمان نے مذہبی رہنما پوپ لیو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی بل کہ ایران کے خلاف جنگ کو غیرمنصفانہ قرار دیا تھا۔ اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ کی توہین کو بھلایا نہیں جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پاکستان کے توسط سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے، جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کی بات کی گئی، پابندیوں کے خاتمے سے متعلق بات ہوئی، جو چیز موجود ہی نہیں اس کی بنیاد پر ہمیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہماری نیت ہےکہ سفارتی ذرائع سےمسائل حل ہوں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ جوہری صلاحت سےمتعلق اصرارامریکا کی ناواقفی کی دلیل ہے، ایران جوہری صلاحت کو امن کے علاوہ استعمال کرنا نہیں چاہتا، انھوں نے واضح کیا کہ ایران کا محاصرہ نہیں کیا جاسکتا، امریکا کی جانب سے سمندر ناکا بندی عالمی قوانین کے خلاف ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، امریکی اخبارمیں چھپا کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایرانی وفد کو مار دیا جائے گا، مذاکرات کاروں کو قتل کی دھمکی پر دنیا کو جاگ جانا چاہئے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ قوی امکان ہے کہ پاکستانی وفد ایران کا دورہ کرے گا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوا تھا۔ ایران اور امریکا کے وفود کی واپسی کے فوراً بعد پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی پیش کش کی تھی۔ جس کی تصدیق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھی کی گئی۔
گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران-امریکا ثالثی کے حوالے سے کوششوں کو پاکستان کے انتخاب کی وجہ قرار دیا تھا۔












