مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امیدیں روشن: پاکستان کی ثالثی میں اہم پیش رفت، آبنائے ہرمز کھلنے کی توقع
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے جمعرات کو اس وقت امیدوں میں اضافہ ہوا جب پاکستان کے اہم ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک ایسے معاہدے کی توقع ظاہر کی جس سے اہم تجارتی راستہ ’آبنائے ہرمز‘ دوبارہ کھل سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے ایک پریس کانفرنس میں مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاہدے کے امکانات پر اچھی امید ہے اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت تعمیری اور جاری ہے۔
انہوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ امریکا نے آٹھ اپریل کو طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں باضابطہ توسیع کی درخواست کی ہے، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ مذاکرات کا اگلا دور ممکنہ طور پر دوبارہ پاکستان میں ہی ہوگا۔
اس سفارتی تحرک کے درمیان اسرائیلی کابینہ نے بھی بدھ کے روز لبنان میں ممکنہ جنگ بندی پر غور کیا ہے، جہاں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ کو چھ ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق کسی بھی وقت جنگ بندی کا اعلان متوقع ہے۔
دوسری جانب تہران میں پاکستانی وفد کی آمد پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل کا استقبال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ تہران خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ثالث کی کوشش ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
جنگ کے بادل چھٹنے کی خبروں نے عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
وال اسٹریٹ پر اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور خام تیل کی قیمتیں مستحکم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
تاہم امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے چین کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری رک جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا ان ممالک پر ثانوی پابندیاں لگا سکتا ہے جو ایرانی تیل خریدیں گے، اور دو چینی بینکوں کو بھی اس حوالے سے تنبیہ جاری کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے کہا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار فراہم نہ کریں، جس پر چینی صدر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے مخصوص انداز میں لکھا کہ میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کی کوشش کر رہا ہوں جو چین اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے، صدر شی جن پنگ چند ہفتوں بعد میری وہاں آمد پر میرا پرتپاک استقبال کریں گے۔
ادھر امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں تک نہیں پہنچ سکا، تاہم ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ایک سپر ٹینکر امریکی رکاوٹوں کے باوجود اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہا ہے۔
مذاکرات میں یورینیم کی افزودگی اور جوہری پروگرام پر پابندی کی مدت اب بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ امریکا 20 سالہ پابندی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ ایران تین سے پانچ سال کی مدت تجویز کر رہا ہے۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کی قوم کے قانونی حقوق تسلیم کیے جائیں اور اس کی عزتِ نفس کا احترام کیا جائے تو مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ہم ایک گھنٹے میں ان کے تمام پل اور بجلی گھر تباہ کر سکتے ہیں، لیکن ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے، اس لیے دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
تہران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک نئی تجویز دی ہے جس کے تحت عمانی حدود سے گزرنے والے جہازوں کو حملوں سے محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ایک مکمل امن معاہدہ طے پا جائے۔














