ایران آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنا چاہتا ہے مگر ہم بلیک میل نہیں ہوں گے: صدر ٹرمپ

امریکا-ایران معاہدے سے متعلق صورتِ حال آج ہی واضح ہوجائے گی: امریکی صدر کی تقریب کے دوران گفتگو
اپ ڈیٹ 18 اپريل 2026 07:56pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہورہی ہے، جس میں امریکا نے سخت مؤقف اپنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چاہتا ہے لیکن اب وہ ہمیں بلیک میل نہیں کرسکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صدارتی حکم نامے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی اعلیٰ قیادت، نیوی اور ایئرفورس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایران سے اب بھی بات چیت کر رہے ہیں، معاہدے کے حوالے سے جو بھی صورتِ حال ہوگی وہ دن کے آخر تک واضح ہوجائے گی، آپ اسے ایک جبری حکومت کی تبدیلی کہہ سکتے ہیں، ایران ہمیں مزید بلیک میل نہیں کرسکتا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا، رجیم کی قیادت کو ختم کیا گیا، سلیمانی بہت سے امریکی فوجیوں کے معذور ہونے اورہلاکتوں کا ذمہ دارتھا، نہ ان کی نیوی بچی، نہ ائیرفورس اور نہ ہی کوئی لیڈر۔

واضح رہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو قزاقی اور وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ریڈیو پیغام کے ذریعے اس اہم بحری راستے کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے اس کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا، اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رہے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی بحریہ دشمنوں کو نئے نقصانات پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی فوج دیگر مسلح افواج کے رفقا کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دو بڑی فوجوں سے لڑ رہی ہے۔ ایرانی فوج نے ان کی کمزوری اور ذلت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ جیسے ایرانی فوج کے ڈرون بجلی کی طرح امریکا اور صہیونی حملہ آوروں کو نشانہ بناتے ہیں، اس کی بہادر بحریہ بھی دشمن کو نئی اور سخت شکست دینے کے لیے تیار ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک 23 جہازوں کو امریکی احکامات پر واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے تحت نئے مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی تاحال رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سرکاری حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔