ایران امریکا مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان، الجزیرہ کا دعویٰ

اہم ہوٹلز خالی، 20 ہزار اہلکار تعینات، ریڈ زون سیل کرنے کی تیاریاں جاری
اپ ڈیٹ 19 اپريل 2026 03:06pm

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر حکام نے انتظامات تیز کر دیے ہیں۔ سخت بیانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔

مذاکرات سے قبل دارالحکومت میں وسیع پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں۔ کم از کم دو بڑے ہوٹلز، جن میں سرینا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں اس سے قبل بھی اہم مذاکرات ہو چکے ہیں، کو مہمانوں سے خالی کروانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ جمعہ تک کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

سیکیورٹی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے دو سی 17 گلوب ماسٹر طیاروں کی آمد کے بعد ایئرپورٹ سے ریڈ زون جانے والی سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کی جائے گی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی کے لیے تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔

ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔

ان تمام اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں جمعہ سے قبل اہم مذاکرات کا انعقاد متوقع ہے اور اس حوالے سے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔