امریکا کی نئی تجاویز زیرِ غور ہیں، ابھی جواب نہیں دیا: ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا۔
شائع 18 اپريل 2026 10:12pm

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

یاد رہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو قزاقی اور وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کر دیا ہے۔ ایرانی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ریڈیو پیغام کے ذریعے اس اہم بحری راستے کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے اس کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا، اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رہے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک 23 جہازوں کو امریکی احکامات پر واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے تحت نئے مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی تاحال رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سرکاری حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، یہ سلسلہ جاری رہا تو ایران مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ ایران نے جمعہ کے روز تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے اس راستے کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے جنگ کے عرصے تک تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ تمام نکات پر 100 فیصد نہ ہونے تک امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کی مکمل ناکہ بندی جاری رکھے گی۔