پاور سیکٹر جغرافیائی بحران کا شکار
پاکستان میں شمالی علاقوں میں حالیہ بجلی کی کمی دراصل پیداواری صلاحیت کی کمی کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ پالیسی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ سستی بجلی موجود ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ غلط جگہ پر موجود ہے۔
اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت خاص طور پر ملک کے جنوبی حصے میں شامل کی گئی، جن میں جوہری توانائی، درآمدی کوئلہ اور تھر کے منصوبے شامل ہیں، لیکن اس کے ساتھ شمالی علاقوں تک بجلی پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن نظام کو اسی رفتار سے نہیں بڑھایا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ صارفین ایسی اضافی پیداواری صلاحیت کی قیمت ادا کر رہے ہیں جسے ہر وقت اور ہر جگہ مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تضاد گزشتہ ہفتے واضح طور پر سامنے آیا۔ حتیٰ کہ پیک اوقات میں بھی جنوبی علاقوں کے کئی کم لاگت والے پاور پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت سے بہت کم پر چل رہے تھے، باوجود اس کے کہ ان کے ٹیرف تقریباً 14 روپے فی یونٹ یا اس سے کم تھے۔ اسی وقت شمالی علاقوں میں مہنگے فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس کو زیادہ استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ آر ایل این جی کی کمی پوری کی جا سکے، جبکہ عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے ہائیڈل پیداوار پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس طرح ایک ایسا نظام جو اضافی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے، وہی نظام کمی کا شکار نظر آیا۔ یہ پیداواری مسئلہ نہیں، یہ منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے۔
اب یہ ماننے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اسے جلدی سے ٹرانسمیشن کے بڑے منصوبوں کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر چشمہ-فائیو جیسے بڑے منصوبے 2030 تک مکمل ہو جاتے ہیں تو آج کے کچھ گرڈ اسٹیبلٹی اور لوڈ بیلنسنگ مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں اربوں ڈالر ایسے ٹرانسمیشن منصوبوں پر خرچ کرنا جو اسی وقت فعال ہوں گے، سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے، نہ کہ پرانی منصوبہ بندی کی عادت کا تسلسل۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال کو قبول کر لیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی کا رخ بدلنا ہوگا۔ پاکستان کو صرف بجلی کو طلب تک پہنچانے کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ طلب کو بجلی کے قریب کیسے لایا جائے۔
جنوبی پاکستان پہلے ہی کم لاگت بجلی کے ایک بڑے مگر کم استعمال ہونے والے حصے کا حامل ہے۔ اگر یہ بجلی شمال تک مؤثر طریقے سے منتقل نہیں ہو سکتی تو پھر توانائی سے بھرپور صنعتوں کو اسی علاقے کے قریب منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یہ زیادہ منطقی طویل المدتی حل ہے۔ صارفین پہلے ہی غیر فعال جنوبی پلانٹس کی کیپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں، اس لیے کم از کم یہ تو یقینی بنایا جائے کہ اس ضائع شدہ صلاحیت کو معاشی پیداوار میں بدلا جائے۔
اس کے لیے ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جو انتظامی عادت کے بجائے مسابقتی برتری پر مبنی ہو۔ کراچی اور جنوبی کوریڈور، بندرگاہوں اور نسبتاً سستی بجلی کی دستیابی کے ساتھ، توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے قدرتی مقام ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان واقعی ایسے شعبے چلانا چاہتا ہے جنہیں مستحکم اور زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کی جگہ یہی ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ محنت طلب صنعتوں کو ان علاقوں میں منتقل کرنا چاہیے جہاں مزدور وافر ہوں اور زمین سستی ہو، جیسے جنوبی پنجاب کے کچھ حصے۔ وہاں گارمنٹس کا کلسٹر بنانا زیادہ منطقی ہے بجائے اس کے کہ ایک ہی جگہ پر صنعتوں کا دباؤ بڑھایا جاتا رہے۔
پاکستان کو اب صنعتی ترقی کے بارے میں مبہم باتوں کی ضرورت نہیں۔ اسے ایک مختلف نقشے کی ضرورت ہے۔ ایک کلسٹر توانائی کی منطق پر ہونا چاہیے، اور دوسرا مزدور کی منطق پر۔ ملک بہت عرصے سے یہ فرض کرتا آیا ہے کہ ترقی صرف اسلام آباد سے منظم کی جا سکتی ہے، جبکہ مقام، ایندھن، لاجسٹکس اور گرڈ کی حقیقتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
شمال میں حالیہ بجلی کی کمی کو اسی لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب پیداواری منصوبہ بندی، ٹرانسمیشن، ایندھن اور صنعتی پالیسی الگ الگ چلائی جائیں تو کیا ہوتا ہے۔ ریاست نے اضافی صلاحیت تو پیدا کی لیکن اس کے استعمال کا مسئلہ حل نہیں کیا۔ اس نے طلب کو مرکوز کیا لیکن سپلائی کو ہم آہنگ نہیں کیا۔ اب صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس اضافی اور غیر مؤثر نظام دونوں کی قیمت ادا کریں۔
اسی لیے یہ بحران بنیادی طور پر صلاحیت کا نہیں بلکہ پالیسی کا ہے۔ پاکستان پہلے ہی اس بجلی کی ادائیگی کر چکا ہے جسے وہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہا۔ اگلا قدم صرف زیادہ بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس معیشت کو اس نظام کے مطابق ڈھالنا ہے جو حقیقت میں موجود ہے۔
نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

















