امریکا میں حساس تحقیق سے جڑے 10 سائنسدانوں کی ہلاکتیں، تحقیقات شروع
امریکا میں جوہری اور خلائی تحقیق سے وابستہ کم از کم 10 سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکتوں اور گمشدگیوں نے تشویش پیدا کر دی ہے، جس پر ایف بی آئی نے ممکنہ روابط کی جانچ کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
امریکی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی نے کہا ہے کہ وہ حالیہ برسوں میں ہلاک یا لاپتا ہونے والے سائنسدانوں کے کیسز میں ممکنہ تعلق تلاش کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔
ادارے کے مطابق اس سلسلے میں محکمہ توانائی، محکمہ دفاع اور ریاستی و مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کی ہاؤس نگرانی کمیٹی نے بھی ان واقعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے، جن سائنسدانوں کو حساس معلومات تک رسائی حاصل تھی۔
رپورٹس کے مطابق ان افراد میں ایک نیوکلیئر فزسسٹ اورمیساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پروفیسرنونو ایف جی لوریرو شامل ہیں، جنہیں 2025 میں ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
اسی طرح ایک ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل ولیم نیل میک کیلینڈ، نیو میکسیکو سے لاپتا ہیں، جبکہ ایک ایرو اسپیس انجینئر مونیکا ریزا لاس اینجلس میں ہائیکنگ کے دوران غائب ہو گئیں۔
ان کیسز میں کچھ قتل کے واقعات ہیں جبکہ بعض میں لاپتا افراد شامل ہیں، تاہم کئی کیسز میں کسی سازش یا جرم کے واضح شواہد نہیں ملے۔
ناسا نے کہا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، تاہم فی الحال قومی سلامتی کو کوئی براہ راست خطرہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان واقعات کو ’انتہائی سنجیدہ معاملہ‘ قرار دیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کیسز کا مشترکہ جائزہ لے کر ممکنہ روابط تلاش کیے جا رہے ہیں۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کیش پاٹل کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ان واقعات کا تعلق حساس معلومات تک رسائی یا کسی غیر ملکی عنصر سے ہے۔
دوسری جانب بعض حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کسی منظم سازش کے واضح شواہد موجود نہیں، اور امریکا میں ہزاروں سائنسدان کام کر رہے ہیں، اس لیے چند کیسز کو جوڑنا قبل از وقت ہو سکتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔















