دبئی کے امیر ترین افراد میں بھارتی، پاکستانی اور سعودی شہری سرفہرست

کم ٹیکس اور لگژری زندگی نے امیروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
شائع 22 اپريل 2026 02:40pm
تصویر/ اے آئی
تصویر/ اے آئی

دبئی کی چمک دمک اور کاروباری مواقع نے دنیا بھر کے امیر ترین افراد کو اپنی جانب راغب کر رکھا ہے، لیکن حالیہ تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس عالمی تجارتی مرکز میں پاکستانی، بھارتی اور سعودی نژاد دولت مندوں کا پلہ سب سے بھاری ہے۔

الٹراٹا اور آرٹن کیپیٹل کی جانب سے بدھ کو جاری کی گئی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق، دبئی میں تقریباً 900 ’انتہائی امیر‘ افراد رہتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کے اثاثے 30 ملین ڈالر (تقریباً 110 ملین درہم) سے زائد ہیں، جبکہ تقریباً 40 فیصد لوگوں کی دولت خود کمائی اور وراثت دونوں کا مجموعہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق دبئی کے امیر لوگ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ نوجوان ہیں۔ ہر پانچ میں سے ایک امیر غیر ملکی کی عمر 50 سال سے کم ہے۔

دبئی کے دنیا بھر کے امیروں کے لیے پسندیدہ ترین مقام بننے کی کئی وجوہات ہیں۔یہاں ٹیکس کم ہیں اورٹیکسوں کا بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ قوانین نرم ہیں۔ آسان رہائشی پروگرام اور طویل مدتی ویزا کی سہولت میسر ہیں۔ جلدی ویزا (خاص طور پر گولڈن ویزا) ملتا ہے اور پرتعیش طرزِ زندگی دستیاب ہے۔ اسی وجہ سے دبئی کی آبادی 4 ملین (40 لاکھ) سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

تحقیق میں ایک اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ دبئی میں مقیم 95 فیصد سے زائد غیر ملکی امیروں کے اثاثے متحدہ عرب امارات سے باہر بھی موجود ہیں، یعنی وہ صرف دبئی پر انحصار نہیں کرتے بلکہ مختلف ممالک میں سرمایہ رکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ دبئی کو صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ اپنے عالمی سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

خواتین کی تعداد امیر افراد میں تقریباً 7 فیصد ہے۔

دبئی بینکنگ، تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور کنزیومر سروسز جیسے متنوع شعبوں میں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030 تک دنیا بھر کے انتہائی امیر افراد کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 34 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔ ان کی مجموعی دولت 63 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 84 ٹریلین ڈالر ہو جائے گی اور قریباً 7.7 ملین افراد کے پاس 5 ملین ڈالر سے زیادہ اثاثے ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب دولت کا تعلق کسی ایک جغرافیہ یا ملک سے نہیں رہا، بلکہ کامیاب افراد اپنی زندگی اور اثاثوں کو ایک سے زائد ممالک میں پھیلارہے ہیں تاکہ زیادہ مواقع، تحفظ اور سہولت حاصل کر سکیں۔۔