یورپی یونین میں اسرائیل سے تعلقات معطل کرنے کی تجویز مسترد

غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر اختلافات برقرار، رکن ممالک اتفاقِ رائے قائم نہ کر سکے
شائع 22 اپريل 2026 02:01pm

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات جزوی طور پر معطل کرنے کی تجویز پر متفق نہ ہو سکے، جس کے بعد فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر بلاک کے اندر اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معطل کرنے کی تجاویز ابھی ایجنڈے پر موجود ہیں، تاہم رکن ممالک کی اکثریت کی حمایت کے بغیر ان پر عملدرآمد ممکن نہیں۔

برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسا کوئی اتفاق رائے موجود نہیں جو پالیسی میں تبدیلی کی اجازت دے سکے۔

دوسری جانب بعض رکن ممالک، جن میں آئرلینڈ، اسپین اور سلووینیا شامل ہیں، نے غزہ میں انسانی صورتحال اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے مبینہ تشدد پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاہدے کو جزوی طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسپین کے وزیر خارجہ جوس مینوئل الباریس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق جاری نہیں رکھے جا سکتے، جبکہ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز بھی یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے کہا کہ مغربی کنارے میں تشدد ’غیر معمولی سطح‘ تک پہنچ چکا ہے اور انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس کے برعکس جرمنی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مسائل پر بات چیت “تعمیری مذاکرات” کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

یورپی یونین کے اندر یہ فیصلہ صرف اس وقت ممکن ہے جب 27 رکن ممالک میں سے اکثریت اور بعض صورتوں میں مکمل اتفاق رائے حاصل ہو، جو فی الحال نظر نہیں آتا۔

کئی انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل شامل ہے، نے یورپی یونین کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’اخلاقی ناکامی‘ قرار دیا ہے۔

اس دوران اسرائیل نے اپنے ناقدین خصوصاً اسپین پر دوہرے معیار اور سیاسی جانبداری کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ جاری ہے اور مستقبل میں ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔