یو اے ای کا 50 فیصد حکومتی نظام مصنوعی ذہانت پر منتقل کرنے کا فیصلہ

شیخ منصور بن زید منصوبے کی نگرانی کریں گے اور محمد القرقاوی عملدرآمد کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
شائع 23 اپريل 2026 05:54pm
فوٹو: اے آئی جنریٹڈ
فوٹو: اے آئی جنریٹڈ

متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں حکومت کے 50 فیصد شعبے اور خدمات خودکار مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے چلائی جائیں گی۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے جمعرات کو ایک نئے حکومتی ماڈل کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک کے سرکاری نظام میں مصنوعی ذہانت کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔

سرکاری حکام کے مطابق صدر کے احکامات کے تحت آئندہ دو سال میں حکومت کے تقریباً 50 فیصد شعبے، خدمات اور آپریشنز ایسے جدید خودکار نظاموں کے ذریعے چلائے جائیں گے جو فیصلے کرنے اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک معاون ٹول نہیں رہی بل کہ یہ معلومات کا تجزیہ کرے گی، فیصلے کرے گی، ان پر عمل کرے گی اور نظام کو مسلسل بہتر بنائے گی۔

حکام کے مطابق اس تبدیلی کا واضح ٹائم فریم دو سال مقرر کیا گیا ہے اور سرکاری کارکردگی کا اندازہ اس بنیاد پر لگایا جائے گا کہ کتنی تیزی سے یہ نظام نافذ ہوتا ہے، اس پر کتنا بہتر عمل کیا جاتا ہے اور حکومتی کام کو کس حد تک دوبارہ تشکیل دیا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اس مقصد کے لیے اپنے سرکاری ملازمین کی تربیت کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہر وفاقی ملازم کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تربیت دی جائے گی تاکہ ایک مضبوط ڈیجیٹل حکومتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔

اس منصوبے کی نگرانی شیخ منصور بن زید کریں گے جب کہ ایک خصوصی ٹاسک فورس محمد القرقاوی کی سربراہی میں اس پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ٹیکنالوجی کی رفتار بڑھ رہی ہے، تاہم حکومت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان کو مرکز میں رکھا جائے۔ مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو زیادہ تیز، مؤثر اور عوامی ضروریات کے مطابق ہو۔