تین امریکی صدور کا انکار، ٹرمپ نے نیتن یاہو کا ایران پر حملے کا منصوبہ قبول کرلیا
سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کی تجویز ماضی میں تین امریکی صدور نے مسترد کر دی تھی، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کی حمایت کا اشارہ دیا تھا۔
امریکی ٹی وی پروگرام ”دی لیٹ شو ود اسٹیفن کولبرٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ سابق امریکی صدور جارج بش، بارک اوباما اور جو بائیڈن نے ایران کے خلاف جنگ کے منصوبے کو قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق وہ خود بھی ان مشاورتوں کا حصہ رہے ہیں۔
جان کیری کا کہنا تھا کہ ان صدور نے اس لیے جنگ کی حمایت نہیں کی کیونکہ ان کے خیال میں تمام سفارتی اور پُرامن راستے ابھی مکمل طور پر استعمال نہیں کیے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویتنام اور عراق جنگوں سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔ بطور ویتنام جنگ کے سابق فوجی، انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے انتہائی اہم ہوتے ہیں اور ماضی میں امریکی عوام کو جنگ کے حوالے سے غلط معلومات دی گئیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے قائل کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 11 فروری کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی ملاقات میں نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا موقع موجود ہے اور امریکا و اسرائیل کی مشترکہ کارروائی سے یہ ممکن ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے مشترکہ آپریشن کے لیے آمادگی ظاہر کی۔
جان کیری نے نیتن یاہو کی اس پیشکش کو ایک پیش گوئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی یا عوامی بغاوت سے متعلق دعوے درست ثابت نہیں ہوئے۔
ادھر ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور نیتن یاہو کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک کشیدہ ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں وینس نے ایران میں ممکنہ حکومت کی تبدیلی سے متعلق نیتن یاہو کے اندازوں پر سوالات اٹھائے۔














