ٹرمپ کا ایرانی قیادت ختم کرنے کا دعویٰ، تہران کو چلانے والوں کی حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ

عسکری اور سفارتی حلقوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں جس کی مثال جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں حملوں سے دی جاتی ہے: تجزیہ کار
اپ ڈیٹ 23 اپريل 2026 12:41pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار قرار دیا ہے۔ جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ ٹرمپ کا دعویٰ کتنا حقیقت ہے اور ایران پر کس کا کنٹرول ہے۔

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکومت بدحالی اور انتشار کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف انہوں نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔

تین ہفتے قبل ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکی فوجی مہم اپنے مقصد میں کامیاب رہی ہے اور اب ایران میں بالکل نئے لوگ اقتدار سنبھال چکے ہیں۔

ان بیانات کے تناظر میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا واقعی ایرانی حکومت تقسیم ہو چکی ہے؟

اس کا جواب جاننے کے لیے ایران کے کلیدی طاقتور مراکز اور شخصیات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

ایران کے سب سے طاقتور شخص سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہیں، جو سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔

مجتبیٰ علی خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے پہلے ہی دن امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد 8 مارچ کو مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا لیکن وہ دہائیوں سے اپنے والد کے قریبی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے گہرے مراسم ہیں۔

اگرچہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حملے میں زخمی ہوئے ہیں، تاہم برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق وہ آڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے 18 اپریل کو ایک پیغام میں خبردار کیا تھا کہ ایرانی بحریہ امریکا اور اسرائیل کو نئی اور عبرتناک شکست دینے کے لیے تیار ہے۔

ایران کی دوسری اہم شخصیت پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف ہیں، جو 2020 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔

64 سالہ قالیباف پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ، پولیس چیف اور تہران کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔

وہ 11 اپریل سے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے جواب میں قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران میدانِ جنگ میں نئے پتے شو کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے اندر کچھ حلقے انہیں مذاکرات کی وجہ سے غدار قرار دے رہے ہیں، لیکن قالیباف کا موقف ہے کہ ڈپلومیسی کا مطلب مطالبات سے دستبردار ہونا نہیں بلکہ فوجی فتوحات کو پائیدار امن میں بدلنا ہے۔

ایران کا فوجی ڈھانچہ انتہائی پیچیدہ ہے جس میں باقاعدہ فوج یعنی ’ارتش‘ اور پاسدارانِ انقلاب یعنی ’آئی آر جی سی‘ متوازی کام کرتے ہیں۔

آئی آر جی سی کا کام ایران کے سیاسی ڈھانچے کی حفاظت اور ڈرون ٹیکنالوجی کا کنٹرول ہے، جو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف ایران کی دفاعی حکمت عملی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

سابق سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد آئی آر جی سی نے شدید انتقامی کارروائیوں کا وعدہ کیا تھا اور خلیجی خطے میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔

الجزیرہ کے مطابق، ماہرین کا خیال ہے کہ آئی آر جی سی اور مذاکراتی ٹیم کے درمیان واضح تقسیم موجود ہے۔

مرکز برائے سائنسی تحقیق و مشرقِ وسطیٰ اسٹڈیز کے جواد حیران نیا نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی کے دوران ٹینکرز پر حملے ثابت کرتے ہیں کہ آئی آر جی سی سفارتی ٹیم کے فیصلوں کو اہمیت نہیں دے رہی۔

ایران کی سیاست میں ایک اور سخت گیر گروپ ’پائیداری فرنٹ‘ بھی سرگرم ہے، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے اصولوں اور سپریم لیڈر کی مطلق طاقت پر پختہ یقین رکھتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ گروپ مذاکرات کی مخالفت کر کے سیاسی ڈھانچے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے پاتا ہے تو اسے ریاستی سطح پر نافذ کیا جائے گا جسے پاسدارانِ انقلاب کو بھی قبول کرنا ہوگا، البتہ سخت گیر گروپ اس معاہدے پر صدر مسعود پزشکیان اور باقر قالیباف کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت میں مختلف نظریات کے درمیان کشمکش ضرور موجود ہے، لیکن حتمی فیصلہ اب بھی سپریم لیڈر اور دفاعی اداروں کے ہاتھ میں ہے۔