وائٹ ہاؤس کی تقریب کے دوران فائرنگ، امریکی صدر ٹرمپ پر حملہ ناکام

گولیوں کی آواز سنتے ہی ہال میں موجود 2600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے۔
اپ ڈیٹ 26 اپريل 2026 09:26am
Trump White House High Alert | Washington Security Crisis | Breaking News - Aaj News

امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہفتے کی رات نجی ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نمائندوں کی سالانہ تقریب کے دوران ایک مسلح شخص نے فائرنگ کردی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بال بال بچ گئے۔

جیسے ہی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ کو خفیہ سروس کے ایجنٹس نے فوری طور پر وائٹ ہاؤس سے نکالا۔ صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے تمام اراکین اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔

حکام کے مطابق شاٹ گن سے لیس ایک شخص نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا اور ایک ایجنٹ پر گولی چلائی، تاہم ایجنٹ حفاظتی لباس کی وجہ سے محفوظ رہا۔

تقریب میں موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولیوں کی آواز سنتے ہی ہال میں موجود 2600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اسٹیج کا کنٹرول سنبھالا اور صدر ٹرمپ کو جھک کر وہاں سے نکلنے میں مدد دی۔

اس دوران سیکیورٹی ایجنٹوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی حفاظت کے لیے زمین پر لیٹنے کی ہدایت کی۔

صدر ٹرمپ نے واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور خفیہ سروس نے شاندار کام کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور ایک بیمار ذہن کا آدمی تھا جس نے 50 گز کے فاصلے سے چیک پوائنٹ پر حملہ کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ چیک پوائنٹ کی طرف لپکا جسے خفیہ سروس کے بہادر جوانوں نے قابو میں کر لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکام کا خیال ہے کہ یہ شخص اکیلا ہی اس کارروائی میں شامل تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر مذاق کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ صدر کا پیشہ اتنا خطرناک ہے تو شاید میں الیکشن نہ لڑتا، لیکن مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور یہ خطرات ملازمت کا حصہ ہیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس بھی اس واقعے سے متعلق کوئی معلومات ہو تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیقاتی ادارے حملہ آور کے پس منظر کا جائزہ لے رہے ہیں۔

قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا ہے کہ اس بزدلانہ کارروائی کرنے والے شخص پر جلد ہی متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

واشنگٹن کی میئر موریل باؤزر نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والا ایجنٹ اور زیرِ حراست حملہ آور دونوں اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں ایک محفوظ بال روم کی تعمیر کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل میں ایسی تقریبات مکمل سیکیورٹی کے ساتھ منعقد ہو سکیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پر اس سے پہلے بھی 2024 میں پنسلوانیا اور فلوریڈا میں قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔

جس ہوٹل میں یہ تقریب ہو رہی تھی، وہاں 1981 میں سابق صدر رونالڈ ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

صدر ٹرمپ نے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات کو مل کر حل کرنا چاہیے۔