'حالتِ جنگ': اسرائیل نے غزہ میں حملے کیوں تیز کر دیے؟
غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے حالیہ دنوں میں اپنے حملوں میں نمایاں شدت پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے باوجود ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف زمینی کنٹرول بڑھانے بلکہ غزہ میں کسی بھی نئی انتظامی ساخت کو مؤثر ہونے سے روکنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
غزہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق کم از کم 25 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ حالیہ 24 گھنٹوں میں 4 افراد مارے گئے۔ جنگ بندی کے بعد اب تک مجموعی ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی پولیس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی بڑھا دی ہیں اور 6 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد غزہ میں استحکام کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
زمینی صورتحال میں اسرائیلی پیش قدمی بھی جاری ہے، اور وہ غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے، جس سے شہریوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔
جنگ بندی معاہدے کے باوجود بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے فوجی انخلا نہیں کیا، جبکہ امریکی حمایت یافتہ انتظامی کمیٹی بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔















