انتقام یا سیاست: ہربھجن سنگھ اور راگَھو چڈھا کے گھروں کے باہر 'غدار' کیوں لکھ دیا گیا؟

عام آدمی پارٹی سے علیحدگی اور بی جے پی میں شمولیت: راگھو چڈھا پر ’غداری‘ کے الزامات کی حقیقت
اپ ڈیٹ 27 اپريل 2026 02:48pm

بھارت کے شہر ممبئی اور پنجاب میں اِس وقت شدید سیاسی تناؤ دیکھا جا رہا ہے جہاں عام آدمی پارٹی (آپ) کے کارکنان اپنے ہی سابق رہنما اور راجیہ سبھا ممبر راگھَو چڈھا اور سابق بھارتی کرکٹر ہربھجن سنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور انہیں ’غدار‘ قرار دے رہے ہیں۔

ممبئی کے علاقے کھار میں راگھو چڈھا کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈز تھے جن پر ’راگھو چڈھا غدار ہے‘ کے نعرے درج تھے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں ہربھجن سنگھ کے گھر کے باہر بھی ’غدار‘ لکھ دیا گیا۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب راگھو چڈھا نے پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا (اسمبلی) میں اپنا ڈپٹی لیڈر کا عہدہ اشوک متل کو دیے جانے کے بعد سات دیگر اسمبلی ممبران کے ہمراہ عام آدمی پارٹی سے 15 سالہ رفاقت ختم کر کے باقاعدہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت کا اعلان کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اشوک متل جنہیں راگھو چڈھا کا عہدہ دیا گیا وہ خود بھی ان سات اراکین میں شامل تھے جنہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

راگھو چڈھا نے پیر کو عام آدمی پارٹی سے اپنی راہیں جدا کرنے کا دفاع کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جس پارٹی کو میں نے 15 سال اپنے خون پسینے سے سینچا، وہ اب اپنے اصل راستے سے بھٹک چکی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام آدمی پارٹی اب عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے اور اس کا کام کرنے کا ماحول انتہائی زہریلا ہو چکا ہے۔

راگھو چڈھا کے بقول انہیں پارلیمنٹ میں بولنے سے روکا گیا اور پارٹی اب کچھ بدعنوان اور سمجھوتہ کرنے والے لوگوں کے قبضے میں ہے۔

راگھو چڈھا نے جمعہ کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں دہلی انتخابات 2025 میں عام آدمی پارٹی کی عبرتناک شکست کی وجہ ’شیش محل‘ تنازع کو قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے چیف اروند کیجریوال کی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر اٹھنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات نے پارٹی کے اخلاقی وقار کو خاک میں ملا دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے عوام نے اسی وجہ سے عام آدمی پارٹی کو مسترد کیا کیونکہ جو پارٹی سادگی اور انسدادِ بدعنوانی کے نام پر بنی تھی، اس کے سربراہ قیمتی اطالوی ماربل اور پرتعیش فٹنگز والے گھر میں رہنے لگے۔

انہوں نے اب ’شیش محل پارٹ ٹو‘ کے الزامات بھی دہرائے ہیں جہاں کیجریوال کی نئی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر بھاری اخراجات کیے گئے ہیں۔

عام آدمی پارٹی کی سینیئر رہنما آتشی نے راگھو چڈھا الزامات کو بی جے پی کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور چیلنج کیا ہے کہ بی جے پی اپنے وزراء اور لیفٹیننٹ گورنر کے گھروں کو بھی عوامی معائنے کے لیے کھولے تاکہ ووٹرز خود فیصلہ کر سکیں۔

دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب عام آدمی پارٹی کے چیف اروند کیجریوال کو اپنی رہائش گاہ تبدیل کرنی پڑی کیونکہ وہ پارٹی بدلنے والے ایم پی اشوک متل کے گھر میں رہائش پذیر تھی۔

راگھو چڈھا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ سیاست میں کیریئر بنانے نہیں آئے تھے بلکہ ایک کامیاب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ملازمت چھوڑ کر عوامی خدمت کے لیے آئے تھے، مگر اب اس پارٹی میں کام کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔

عام آدمی پارٹی کے لیے یہ ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے کیونکہ راجیہ سبھا میں اس کے 10 میں سے 7 ارکان بشمول راگھو چڈھا، سواتی مالیوال، ہربھجن سنگھ اور سندیپ پاٹھک نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

عام آدمی پارٹی کی قیادت نے اس اقدام کو ’آپریشن لوٹس‘ کا نام دیتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ اور پارٹی نظریات کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔

پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ راگھو چڈھا کو ہر ممکن موقع دیا گیا اور انہیں 33 سال کی عمر میں سب سے کم عمر راجیہ سبھا ممبر بنایا گیا، لیکن انہوں نے پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

پنجاب میں مشتعل کارکنان نے ہربھجن سنگھ اور دیگر منحرف رہنماؤں کے گھروں اور اداروں کے باہر مظاہرے کیے۔

جالندھر اور لدھیانہ جیسے شہروں میں دیواروں پر ان رہنماؤں کے خلاف ’غدار‘ کے نعرے لکھے گئے اور انہیں عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والا قرار دیا گیا۔

عام آدمی پارٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں نے بی جے پی کے دباؤ میں آ کر پارٹی چھوڑی ہے، جبکہ راگھو چڈھا کا موقف ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ پارٹی کی موجودہ حالت سے بیزاری اور اکتاہٹ کی بنا پر کیا ہے۔

راگھو چڈھا کے اس سیاسی اقدام پر جہاں ماحول سنجیدہ ہے وہیں سوشل میڈیا پر کئی مزاحیہ میمز بھی دیکھنے کو ملے۔

یہاں تک کہ راگھو چڈھا کے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ان کے لاکھوں فالوورز اچانک سے کم ہوگئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ راگھو چڈھا اور دیگر ارکان کی بی جے پی میں شمولیت سے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں بی جے پی کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی اپنی 13 سالہ تاریخ کے بدترین تنظیمی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ سیاسی تبدیلی نہ صرف پنجاب بلکہ قومی سطح کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔