ایران کو 14 نکاتی تجاویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا: ایرانی وزارت خارجہ کی تصدیق
ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو اپنی 14 نکاتی تجاویز پر امریکا کا جواب پاکستان کے ذریعے موصول ہوگیا ہے، جس کے بعد ایرانی حکام اس جواب کا جائزہ لے رہے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران نے اپنی 14 نکاتی تجاویز پر امریکا کا موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا نے ایران کی تجویز پر اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے پہنچایا ہے۔
تاہم واشنگٹن یا اسلام آباد کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت موصول ہونے والے جواب کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا 14 نکاتی منصوبہ مکمل طور پر خطے میں جاری جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس کا بنیادی مقصد کشیدگی کم کر کے پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کے جوہری مذاکرات جاری نہیں ہیں تاہم سفارتی سطح پر رابطے مختلف ذرائع سے برقرار ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے 14 نکاتی منصوبے میں امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کی سرحدوں کے قریب سے اپنی افواج واپس بلائے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور تمام محاذوں پر جاری کشیدگی، بشمول لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، بند کی جائیں۔
اس منصوبے میں دونوں ممالک کے درمیان 30 دن کے اندر معاہدہ طے پانے کی تجویز بھی دی گئی ہے جب کہ زور دیا گیا ہے کہ فریقین موجودہ جنگ بندی کو طول دینے کے بجائے جنگ کے مکمل خاتمے پر توجہ دیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ایران کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کا جائزہ لیں گے تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ منصوبہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں کیے گئے اقدامات کی ابھی تک بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معاہدے کے خدوخال سے آگاہ کیا گیا ہے اور جلد اس کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے سوال پر کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو یہ امکان موجود ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا اس تنازع سے مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا حل نکالا جائے گا جس کے بعد دوبارہ مداخلت کی ضرورت پیش نہ آئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی یہ تجویز امریکا کے 9 نکاتی منصوبے کے جواب میں دی گئی ہے، جس میں دو ماہ کی جنگ بندی کی تجویز شامل تھی۔
ادھر صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو لکھے گئے خط میں کہا کہ 8 اپریل سے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد تنازع ختم ہو چکا ہے، تاہم ایران اب بھی امریکا اور خطے میں تعینات اس کی افواج کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو تنازع کا تسلسل قرار دینے سے انکار کیا۔
واضح رہے کہ امریکی قانون کے مطابق صدر کو فوجی کارروائی کے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے، بصورت دیگر کارروائیاں روکنا لازم ہوتا ہے۔
دریں اثنا امریکی ارکان کانگریس، بشمول ریپبلکن پارٹی کے بعض رہنما، اس تنازع پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے یا افواج کی واپسی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔














