ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز پر حملے کا دعویٰ، واشنگٹن کی تردید

سینٹ کام اور امریکی حکام نے ایرانی میڈیا کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کسی بھی حملے کی تردید کردی۔
شائع 04 مئ 2026 05:27pm

ایران کی جانب سے امریکی بحری جہاز پر میزائل حملے کے دعوے پر امریکا نے باضابطہ طور پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے من گھڑت اور بے بنیاد قراردیا ہے، ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ جزیرہ جاسک کے قریب دو میزائلوں نے ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ اور’سی این این‘ کے مطابق آبنائے ہرمز کے حساس سمندری علاقے میں ایران اور امریکا کے درمیان بیانیہ جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے امریکی بحریہ پر میزائل حملے کے دعوے سامنے آئے، وہیں واشنگٹن نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ مکمل طور پر’من گھڑت‘ ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے واضح کیا کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔

اسی تناظر میں امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے بھی اپنے بیان میں ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی امریکی بحری جہاز نشانہ نہیں بنا۔ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا، جس میں ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔

آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز پر مبینہ حملے سے متعلق سامنے آنے والی متضاد خبروں کے دوران ایک سینئر ایرانی اہلکار نے نیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا بل کہ اسے روکنے کے لیے صرف وارننگ شاٹ فائر کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں ایرانی اہلکار نے بتایا کہ یہ فائر اس مقصد کے تحت کیا گیا تاکہ امریکی جنگی جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح نہیں کہ اس کارروائی کے نتیجے میں جہاز کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔

اس سے قبل نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جب اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق بحریہ نے تیز اور فیصلہ کن وارننگ جاری کرتے ہوئے دشمن جنگی جہازوں کو آبنائے میں داخل ہونے سے روک دیا۔

یہ مبینہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے پیر سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس مشن کے لیے 15 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے، جنگی جہاز اور ڈرونز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے ایک سخت اور فوری وارننگ کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔

ایران کی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کا کہنا ہے کہ حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ایرانی فوجی کمانڈر میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے غیر ملکی بحری بیڑوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کے بہانے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے نے عالمی تجارت اور معیشت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے کہا کہ شرپسند امریکا کے حامیوں کو محتاط رہنا چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ناقابلِ تلافی پچھتاوا ہو، کیونکہ امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کا نتیجہ حالات کو مزید پیچیدہ بنانے اور بحری جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان سردار محبی نے واضح کیا ہے کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے لیے نافذ کردہ انتظامی عمل کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو طاقت کے زور پر روک دیا جائے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اور جو سویلین یا تجارتی جہاز پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے جاری کردہ پروٹوکولز کے مطابق اور کوآرڈینیشن کے ساتھ طے شدہ راستے سے گزریں گے، وہ مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔

سردار محبی نے مزید کہا کہ اعلان کردہ اصولوں کے خلاف کی جانے والی کسی بھی بحری نقل و حرکت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا اور تمام شپنگ اور انشورنس کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کے اعلانات پر توجہ دیں۔