آبنائے ہرمز میں آپریشن: جنوبی کوریا کا ٹرمپ کے 'پروجیکٹ فریڈم' میں شمولیت پر غور

امریکی صدر نے حال ہی میں اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اس مہم کا اعلان کیا تھا۔
شائع 05 مئ 2026 12:26pm

جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں نئے مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی کوریا کا صدارتی دفتر اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ملک آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے امریکی قیادت میں شروع کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں۔

امریکی صدر نے حال ہی میں اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اس مہم کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ان لوگوں، کمپنیوں اور ممالک کو آزاد کرانا ہے جنہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ صرف حالات کے شکار ہوئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہم ان ممالک کی درخواست پر شروع کی جا رہی ہے جن کے جہاز اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر اس آپریشن میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جائے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے عہدیدار ابراہیم عزیزی نے انتباہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

تہران کا اصرار ہے کہ یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور پاسداران انقلاب کے منظور شدہ راستوں پر چلنا ہوگا۔

اس وقت صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً دو ہزار بحری جہازوں پر بیس ہزار کے قریب ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں پر خوراک، ایندھن اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر ڈیمین شیولیئر کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اتنی بڑی تعداد میں ملاحوں کے پھنس جانے کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس آپریشن کے مقاصد اب سیاسی سے زیادہ معاشی ہو چکے ہیں۔ ریٹائرڈ امریکی ماہر جوناتھن ہیکیٹ کے مطابق شروع میں اس تنازع کے مقاصد حکومت کی تبدیلی اور ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کو ختم کرنا تھے، لیکن اب توجہ آبنائے ہرمز کو کھلوا کر عالمی منڈیوں کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پایا جا سکے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سمندر میں کسی بھی آمنا سامنا کی صورت میں امریکا صرف جہازوں کی حفاظت نہیں کرے گا بلکہ اسے دفاعی کارروائی بھی کرنا پڑے گی، جس سے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

سابق بحری افسر ہارلن المین نے بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے اس ٹرانزٹ کی اجازت نہ دی تو صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ایران کے پاس ڈرونز اور تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں جو رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں۔