کیا آپ کا وزن دوبارہ بڑھ رہا ہے؟ بس چند قدم چلیں اور وزن قابو میں رکھیں
وزن کم کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن اصل امتحان اس وزن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنے کی مستقل عادت اپنا لے تو وہ وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روک سکتا ہے۔
روزانہ 10,000 قدم چلنا صحت بہتر بنانے اور وزن کم کرنے کے لیے ایک مشہور اور مؤثر ہدف سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ ہدف پورا کرنا ہر روز بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور جدید طرز زندگی کے ساتھ اسے قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگرچہ 10,000 قدم چلنا ایک اچھا فٹنس مقصد ہے، جدید تحقیق بتاتی ہے کہ اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حالیہ مطالعے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنے سے ڈائٹ کے بعد وزن برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ترکی کے شہر استنبول میں موٹاپے کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس (ای سی او 2026) میں پیش کی گئی اس رپورٹ نے ثابت کیا ہے کہ وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے اب دس ہزار قدموں کا مشکل ہدف لازمی نہیں، بلکہ ساڑھے آٹھ ہزار قدم بھی وہی نتائج دے سکتے ہیں۔
محققین نے تین ہزار سات سو سے زائد افراد کی زندگیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کے بعد تقریباً اسی فیصد لوگ اگلے تین سے پانچ سالوں میں دوبارہ موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد انسانی جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے اور جسم کھوئی ہوئی چربی دوبارہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تحقیق میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ وزن گھٹانے کے ابتدائی مرحلے میں تو خوراک کی تبدیلی اور ڈائیٹنگ سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر جب وزن ایک بار کم ہو جائے تو جسم اسے اکثر واپس بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن برقرار رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی یعنی پیدل چلنا لازمی ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی ڈائٹ کے دوران اضافی قدم اٹھانے سے وزن تیزی سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس مرحلے میں وزن زیادہ تر کیلوری کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ مگر وزن برقرار رکھنے کے لیے قدم چلنا انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے تاکہ وزن دوبارہ بڑھنے نہ پائے۔
محققین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جنہوں نے ڈائیٹنگ کے بعد روزانہ تقریباً 8,200 سے 8,500 قدم چلنے کو اپنا طرز زندگی بنا لیا، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں تین کلو گرام زیادہ وزن کم رکھنے میں کامیاب رہے جنہوں نے سستی دکھائی۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار قدموں کا فاصلہ تقریباً ساڑھے تین سے چار میل بنتا ہے، جسے ایک اوسط رفتار کا حامل شخص دن بھر میں 60 سے 80 منٹ میں مکمل کر سکتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ یہ ہدف ایک ہی بار میں پورا کیا جائے؛ صبح کی سیر، دفتر میں چھوٹے وقفوں کے دوران چلنا اور رات کے کھانے کے بعد کی چہل قدمی مل کر بھی یہ ہدف پورا کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزن گھٹانے کے لیے ڈائیٹنگ بہترین ہے، لیکن اس کم کیے گئے وزن کو ایک جگہ روکنے یا لاک کرنے کے لیے پیدل چلنا سب سے موثر اور سستا ترین حل ہے۔
یہ سادہ سی تبدیلی نہ صرف آپ کی محنت کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے بلکہ دل کی صحت، شوگر لیول کی بہتری اور ذہنی تناؤ میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسے ایک عارضی مشق کے بجائے مستقل طرز زندگی کے طور پر اپنانا ہی موٹاپے کے خلاف اصل کامیابی ہے۔ یہ ایک مفت اور آسان حکمت عملی ہے جو آپ کی ڈائٹ کی محنت کو مستقل بناتی ہے۔
















