چین ہمارا کاروباری ہی نہیں، اسٹریٹجک شراکت دار بھی ہے: ایران

ایران حالیہ تنازع کے بعد اپنی سفارتی پوزیشن کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے: ایرانی سفیر
اپ ڈیٹ 12 مئ 2026 09:54pm

ایران کے چین میں تعینات سفیر نے کہا ہے کہ بیجنگ صرف معاشی شراکت دار نہیں بل کہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں تہران کے سیاسی توازن کا حصہ ہے۔ چین امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ بیان امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے دوران سامنے آیا ہے۔

چین میں تعینات ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ چین ایران کے لیے صرف ایک اقتصادی شراکت دار یا توانائی خریدار نہیں بل کہ بیرونی دباؤ اور خطرات کے مقابلے میں سیاسی توازن کا اہم حصہ ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق انہوں نے یہ بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ چین کے بعد دیا، جو ایسے وقت میں ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے کی تیاری جاری ہے۔

ایرانی سفیر کے مطابق عراقچی کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران حالیہ تنازع کے بعد اپنی سفارتی پوزیشن کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے اور صرف فوجی یا وقتی ردعمل پر انحصار نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد کے مرحلے میں اپنی سفارتی حکمت عملی کو مستقل شراکت داریوں کے ذریعے نئی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ چین نے اس بحران کو دباؤ کے بجائے علاقائی جنگ روکنے اور استحکام برقرار رکھنے کے تناظر میں دیکھا۔

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ اگرچہ چین کو امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم ثالثی کو ایران پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے سیکیورٹی اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں اور انہیں تجارتی سرگرمیوں کے خلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

انھوں نے ’ایکس‘ پر اپنی ٹوئیٹ میں بھی لکھا کہ ایران اور چین کے درمیان تعلقات، جو دو ممالک اور دو قدیم تہذیبیں ہیں جن کی گہری ثقافت اور مضبوط روابط ہیں اور جو خطے میں سلامتی، امن اور مشترکہ ترقی کے خواہاں ہیں، امریکا کے دباؤ کے ذریعے بیجنگ کے تہران کے بارے میں مؤقف کو تبدیل کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔

اسی دوران امریکی محکمہ خزانہ نے چین کے دورے سے قبل ایران کے تیل کی فروخت سے متعلق 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن پر تہران کے توانائی شعبے کی معاونت کا الزام ہے۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے پروفیسر سلطان برکات کا کہنا ہے کہ بیجنگ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی تعطل کو ختم کرنے میں اہم تبدیلی لانے والا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کو آگے آنا ہوگا اور اپنی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ تمام فریقوں پر کچھ دباؤ بھی ڈالنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے چین اب تک پسِ پردہ خاموش سفارت کاری کر رہا ہو، لیکن اگر معاملہ صرف امریکا، ایران اور اسرائیل کے مفادات پر چھوڑ دیا گیا تو پیش رفت مشکل دکھائی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے مذاکرات کے لیے چین کا دورہ کریں گے اور حکام کے مطابق ان بات چیت میں ایران کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی منگل کے روز واشنگٹن سے بیجنگ روانہ ہونے کی توقع ہے۔

امریکی میڈیا‘ کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین میں ان کے ساتھ ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ بندی کی صورتِ حال غیر یقینی قرار دی جا رہی ہے۔

واشنگٹن میں ایک بجٹ سماعت کے دوران جب ان سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کی صورتِ حال کے بارے میں سوال کیا گیا تو ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ اس نوعیت کے معاملات پر تمام فیصلے صدر کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر ختم ہونے کے خدشے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، برطانوی خام تیل 107 ڈالر اور امریکی خام تیل تقریباً 101 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشے کے بعد اوپیک ممالک کی تیل پیداوار بھی 26 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، جو تقریباً 2 کروڑ بیرل سے کم ہو کر 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی، جب کہ کویت کی پیداوار سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔