امریکی گیس اسٹیشنز پر سائبر حملہ: حکام کو ایران پر شبہ

اگر ہیکرز ایسے سسٹمز تک رسائی برقرار رکھیں تو وہ مستقبل میں گیس لیک جیسے خطرناک مسائل کو چھپا سکتے ہیں: ماہرین
شائع 16 مئ 2026 09:54am

امریکا کی متعدد ریاستوں میں گیس اسٹیشنز کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی نگرانی کرنے والے سسٹمز ہیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ امریکی حکام کو شبہ ہے کہ اس سائبر حملے کے پیچھے ایرانی ہیکرز ہو سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے ایسے آٹو میٹک ٹینک گیج (اے ٹی جی) سسٹمز کو نشانہ بنایا جو انٹرنیٹ سے منسلک تھے اور پاس ورڈ سے محفوظ نہیں تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہیکرز بعض مقامات پر ٹینکوں کی اسکرین پر دکھائی جانے والی ریڈنگز میں تبدیلی کرنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ایندھن کی اصل مقدار متاثر نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کا جسمانی نقصان یا دھماکہ رپورٹ ہوا۔

اس کے باوجود ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہیکرز ایسے سسٹمز تک رسائی برقرار رکھیں تو وہ مستقبل میں گیس لیک جیسے خطرناک مسائل کو چھپا سکتے ہیں۔

تحقیقات سے واقف ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران اس لیے اہم مشتبہ ملک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایرانی ہیکرز امریکی تیل، گیس اور پانی کے نظام کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ہیکرز نے بہت کم ڈیجیٹل شواہد چھوڑے ہیں، جس کے باعث ایران کے ملوث ہونے کی حتمی تصدیق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال جاری ہے۔