ہراسگی کیس: مومنہ اقبال نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف ثبوت پیش کردیے

این سی سی آئی اے دونوں فریقین کے بیانات قلمبند کرے گی اور دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا
اپ ڈیٹ 21 مئ 2026 03:11pm
فوٹو: انسٹاگرام/مومنہ اقبال
فوٹو: انسٹاگرام/مومنہ اقبال

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے صوبائی اسمبلی کے ایک رکن ثاقب چدھڑ پر ہراسگی کا الزام عائد کرتے ہوئے اہم شواہد نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں پیش کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اداکارہ آج لاہور میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہوئیں جہاں انہوں نے مبینہ ہراسگی سے متعلق اپنا مؤقف ریکارڈ کرایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مومنہ اقبال عقبی راستے سے این سی سی آئی اے کے دفتر پہنچیں۔ دورانِ پیشی انہوں نے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے ثبوت بھی تحقیقاتی حکام کے سامنے پیش کیے، جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیقات سے واقف ذرائع کے مطابق متعلقہ ایم پی اے کو بھی آج دوپہر ایک بجے این سی سی آئی اے میں طلب کیا گیا تھا، تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود وہ تاحال پیش نہیں ہوئے۔

اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے دائر کی گئی آن لائن ہراسگی کی درخواست کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے این سی سی آئی اے لاہور نے دونوں فریقین کو آج ادارے طلب کیا تھا۔

کراچی سے آن لائن موصول ہونے والی درخواست میں مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد این سی سی آئی اے لاہور نے ابتدائی کارروائی کا آغاز کیا۔

ابتدائی مرحلے میں کیس کا میرٹ پر جائزہ لیا گیا چونکہ معاملہ آن لائن ہراسگی کیس سے متعلق ہے، اس لیے ڈیجیٹل شواہد، سوشل میڈیا ریکارڈ اور دیگر متعلقہ مواد کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔

تفتشیی ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے دونوں فریقین کے بیانات قلمبند کرے گی اور دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں، اگر تحقیقات کے دوران زبانی یا آن لائن ہراسمنٹ کے الزامات ثابت ہوئے تو معاملہ باقاعدہ پولیس کیس کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کا دائرہ کار بھی طے کیا جائے گا، جبکہ شواہد کی بنیاد پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے دو روز قبل سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

اداکارہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک اسٹوری میں تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اس معاملے کی متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کو شکایات درج کروائیں لیکن مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث کارروائی نہیں ہوسکی۔

اداکارہ مومنہ اقبال کے مطابق انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کی گئی جب کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

اداکارہ نے اعلیٰ حکام، اہم سرکاری دفاتر، نیوز چینلز اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی پوسٹ میں ٹیگ کیا تھا۔