24 گھنٹوں میں کتنے جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا: پاسداران انقلاب نے بتادیا

24 گھنٹوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینرز سمیت 35 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا: پاسداران انقلاب
شائع 22 مئ 2026 05:50pm

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 گھنٹوں میں آئل  ٹینکرز، کنٹینرز سمیت 35 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا ہے جب کہ آئل ٹینکرز، کنٹینرز، جہازوں نے ایرانی اجازت کے بعد آبنائے ہرمز عبورکیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق جمعے کو پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 35 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے ایرانی فورسز کی نگرانی میں گزرے ہیں، گزرنے والے جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر شپ اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل تھے، جنہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کی۔

پاسداران انقلاب کے مطابق تمام جہازوں کی آمدورفت ایرانی بحریہ کی رابطہ کاری اور سیکیورٹی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ اس سے قبل گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھی 31 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

ایرانی حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کے لیے باقاعدہ اجازت اور رابطہ کاری ضروری ہوگی جب کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے نگرانی کے خصوصی زون بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز پر کنٹرول مزید سخت کیا گیا ہے جب کہ غیر متحارب ممالک کے جہاز ایران کے ساتھ رابطے کے بعد محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے بحری آمدورفت کے لیے نیا کثیر سطحی نظام متعارف کرایا ہے، جس میں چین اور روس جیسے اتحادی ممالک سے منسلک جہازوں کو ترجیح دی جارہی ہے جب کہ دیگر جہازوں کے لیے حکومتی سطح پر اجازت یا مالی انتظامات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی آر جی سی جہاز مالکان یا آپریٹرز کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کا جائزہ لیتی ہے جب کہ بعض اوقات جہازوں کا جسمانی معائنہ بھی کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا ان کا امریکا یا اسرائیل سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق جہاز مالکان کو کارگو کی مالیت، پرچم، روانگی اور منزل، رجسٹرڈ مالک، منیجر اور عملے کی قومیت سمیت مختلف تفصیلات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق بعض ممالک نے ایران کے ساتھ الگ انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔ رپورٹ میں بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نئی دہلی تہران میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے ایرانی حکام اور آئی آر جی سی سے رابطہ رکھتی ہے تاکہ خلیج فارس سے گزرنے والے جہازوں کی کلیئرنس حاصل کی جاسکے۔

دوسری جانب گزشتہ روز امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام نے کہا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے اب تک 94 تجارتی جہازوں کو واپس بھیجا گیا ہے جب کہ 4 تجارتی جہازوں کو غیر فعال بھی کیا گیا ہے۔