ایران امریکا تنازع: قطری مذاکراتی ٹیم بھی تہران میں موجود
امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے بعد اب قطر بھی شامل ہوگیا ہے۔ قطر کا اعلیٰ سطح وفد جمعے کو ایسے وقت میں تہران پہنچا ہے جب پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ممکنہ امن معاہدے کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطری مذاکراتی ٹیم تہران میں موجود ہے اور اس کا مقصد ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطری مذاکراتی ٹیم امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بعد تہران پہنچی ہے تاکہ دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خاتمے اور تصفیہ طلب امور پر کوئی حتمی معاہدہ طے پا سکے۔ تاہم قطری وزارت خارجہ نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
اگرچہ غزہ سمیت خطے کے دیگر تنازعات میں قطر ایک اہم ثالث رہا ہے تاہم ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے قطر نے محتاط پوزیشن اختیار کر رکھی تھی۔ حالیہ امریکا ایران جنگ میں پاکستان ہی واحد ملک تھا جو باضابطہ اور کلیدی ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کو اس تنازع میں کلیدی ثالث اور رابطہ کار قرار دیتے ہوئے اس کے کردار کی تعریف کی۔
قطری وفد کے تہران پہنچنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے دیگر ممالک کے بھی اپنے مفادات ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک جو اس تمام صورت حال سے متاثر ہیں، ان کے اپنے حالات ہیں۔ ہم ان سب سے بات کرتے ہیں، تاہم میں یہ واضح کر دوں کہ اس تمام معاملے میں ہم جس ملک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، وہ پاکستان ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی برقرار رہے گا‘۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے فی الحال ایک غیر مستحکم جنگ بندی قائم ہے۔
رائٹرز نے جمعرات کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکا کے ساتھ تاحال کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے تاہم اختلافات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔ ایران کی یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول بدستور اہم مسائل ہیں۔
قطر کی جانب سے ثالثی کے اس عمل میں دوبارہ شمولیت اس لیے بھی حیران کن ہے کیوں کہ حالیہ تنازعے کے دوران ایران نے قطر پر سینکڑوں میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے تھے۔ جس میں توانائی تنصیبات بھی شامل تھیں، جس سے قطر کی ایل این جی برآمد کرنے کی صلاحیت کو تقریباً 17 فیصد نقصان پہنچا تھا اور 2 مارچ کو قطر نے پیداوار روک دی تھی۔
ایران جنگ سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والی ایل این جی کا 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا، جس کا بڑا حصہ قطر سے آتا تھا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے قطر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ یاد رہے کہ قطر امریکا کا ’نان نیٹو‘ اتحادی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ’العدید ایئر بیس‘ بھی قطر میں واقع ہے۔















